ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔

January 19, 2026

بھارت نے افغانستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے 18 اقسام کی ادویات فراہم کی ہیں، جو افغان وزارتِ صحت کے معائنہ اور کنٹرول کے بعد ہسپتالوں میں تقسیم کی جائیں گی

January 19, 2026

افغان وزارتِ دفاع کے چیف آف اسٹاف محمد فصیح الدین المعروف فطرت نے دوحہ میں بین الاقوامی بحری دفاعی نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی

January 19, 2026

کابل کے شہر نو کے ایک ہوٹل میں زوردار دھماکہ، نو افراد ہلاک، متعدد زخمی، ہوٹل اور قریبی دکانیں شدید متاثر

January 19, 2026

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات تشویشناک، مولانا امجد خان کے مطابق عوام اور دینی شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حکمران محض جلسوں میں مصروف ہیں اور حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دے رہے

January 19, 2026

دورے کے دوران ونگ کمانڈر نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی اور تعلیم کی اہمیت، قومی ترقی میں نوجوانوں کے کردار اور خود اعتمادی کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو معاشروں کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

January 19, 2026

لڑکیوں پر مبینہ ظلم کا الزام، دو طالبان رہنماؤں کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری

آئی سی سی نے طالبان رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے ہیں مگر اسرائیل کی غزہ میں خواتین و بچوں پر بمباری پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، صارفین کا سوال
آئی سی سی طالبان وارنٹ

آئی سی سی نے طالبان رہنماؤں کے وارنٹ جاری کیے ہیں مگر اسرائیل کی غزہ میں خواتین و بچوں پر بمباری پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، صارفین کا سوال

July 9, 2025

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغان طالبان کے دو اہم رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں جن میں سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی شامل ہیں۔ ان پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مبینہ ظلم و ستم کا الزام لگایا گیا ہے۔ تاہم ان وارنٹس کے اجراء پر دنیا بھر میں سوالات اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی قیادت میں غزہ میں ہزاروں خواتین و بچوں کے قتل پر آئی سی سی خاموش ہے۔

آئی سی سی نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ “معقول شواہد موجود ہیں” کہ طالبان رہنماؤں نے صنفی بنیادوں پر خواتین کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، نقل و حرکت، اظہار رائے، مذہب اور نجی زندگی جیسے حقوق چھین لیے۔

دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اسلامی امارت کے رہنماؤں اور حکام نے افغانستان میں اسلامی شریعت کی روشنی میں مثالی انصاف قائم کیا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی سی سی کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے اور عدالت کی خاموشی اُس وقت شرمناک ہے جب “روزانہ غزہ میں درجنوں خواتین اور بچے اسرائیلی حملوں میں شہید ہو رہے ہیں۔”

واضح رہے کہ 2022 کے آخر میں ترکیہ، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی مسلم ممالک نے طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر پابندی کی مذمت کی تھی تاہم آج انہی ممالک کی خاموشی اور آئی سی سی کے دوہرے معیار پر عالمی مسلم رائے عامہ میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

انصاف کا مطالبہ صرف افغانستان یا طالبان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسرائیل جیسے جنگی جرائم کے مرتکب افراد پر بھی یکساں انداز میں کارروائی ہونی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔

January 19, 2026

بھارت نے افغانستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے 18 اقسام کی ادویات فراہم کی ہیں، جو افغان وزارتِ صحت کے معائنہ اور کنٹرول کے بعد ہسپتالوں میں تقسیم کی جائیں گی

January 19, 2026

افغان وزارتِ دفاع کے چیف آف اسٹاف محمد فصیح الدین المعروف فطرت نے دوحہ میں بین الاقوامی بحری دفاعی نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی

January 19, 2026

کابل کے شہر نو کے ایک ہوٹل میں زوردار دھماکہ، نو افراد ہلاک، متعدد زخمی، ہوٹل اور قریبی دکانیں شدید متاثر

January 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *