معروف صحافی یلدا حکیم نے دعویٰ کیا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان کے دورۂ پاکستان کی حالیہ منسوخی کے پیچھے کوئی بیرونی رکاوٹ نہیں بلکہ خود ان کے والد کا فیصلہ کارفرما ہے۔ یلدا حکیم کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مبینہ طور پر اپنی صاحبزادی ٹیریان وائٹ کی پاکستان میں ممکنہ موجودگی اور اس سے جڑے سیاسی مضمرات کے خوف سے اپنے بیٹوں کو وطن واپس آنے سے روک دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیریان وائٹ اپنے سوتیلے بھائیوں کے ہمراہ پاکستان آ کر اپنے والد سے ملاقات کرنے کی شدید خواہش مند تھیں اور اس حوالے سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی تھی۔ تاہم جیسے ہی یہ معاملہ بانی پی ٹی آئی کے علم میں آیا، انہوں نے اس دورے کی مخالفت کر دی۔ عمران خان کو مبینہ طور پر یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر ٹیریان وائٹ ان کے بیٹوں کے ہمراہ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتی ہیں، تو اس سے نہ صرف ایک نیا قانونی پنڈورا باکس کھل جائے گا بلکہ انہیں سخت عوامی ردِعمل اور مخالفین کی جانب سے شدید سیاسی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اپنے ہی بچوں کو پاکستان آنے سے روکنے کا یہ فیصلہ ان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور قانونی گتھیوں کا نتیجہ ہے۔ ٹیریان وائٹ کا معاملہ برسوں سے پاکستانی سیاست اور عدالتوں میں زیرِ بحث رہا ہے، اور ان کی پاکستان آمد بانی پی ٹی آئی کے ان تمام سابقہ بیانات اور موقف کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی تھی جو وہ عوامی سطح پر اختیار کرتے رہے ہیں۔ اسی ممکنہ ‘بیک لیش’ اور اپنی سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصان کے ڈر سے انہوں نے اپنے بچوں کو اس دورے سے باز رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ سنسنی خیز انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بانی پی ٹی آئی کی ذاتی زندگی، ان کے بچوں کی قانونی حیثیت اور ان کے خاندانی معاملات کے حوالے سے بحث پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین اس صورتحال کو بانی پی ٹی آئی کی سیاسی بقا کی جنگ قرار دے رہے ہیں، جہاں وہ اپنے خاندانی رشتوں اور بچوں کی خواہشات پر سیاسی مفادات کو ترجیح دینے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ یلدا حکیم کے اس انکشاف نے جہاں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، وہیں سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا ایک سیاست دان کے لیے اس کی عوامی ساکھ اس کے خاندانی رشتوں سے زیادہ اہم ہوتی ہے؟ اس خبر نے پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے، جہاں اب اس معاملے پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔
دیکھیے: عمران خان: انسانی حقوق کے نام پر سیاسی لابیز اور مبینہ بیانیہ سازی