30 جنوری 2026 کو نیٹ فلکس پر بھارتی فلم دھرندر کی ریلیز اور اسی روز بلوچستان میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے سکیورٹی اور پالیسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا۔ بعض تجزیہ کاروں اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مماثلت کو محض اتفاق سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اسے علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
بی ایل اے اور “آپریشن ہیروف 2.0” کے دعوے
یاد رہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے دوران متعدد حملوں کی کوششیں کی گئیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بنایا اور جھڑپوں میں 200 کے قریب دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ افسوسناک طور پر سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادتیں بھی ہوئیں۔ اعداد و شمار اور تفصیلات کے حوالے سے مختلف دعوے گردش میں ہیں جن کی حتمی توثیق متعلقہ اداروں کی جانب سے کی جاتی ہے۔
بھارت کی بلوچستان میں دہشت گردی
پاکستانی سکیورٹی اداروں نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے اور وہی بی ایل اے کے باقاعدہ سہولت کار بھی ہیں۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کا کردار واضح ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ روابط بھی اس سلسلے کی کڑی ہیں۔
بی ایل اے کو “فتنۃ الہندوستان” قرار دینے کا مؤقف
پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کو “فتنۃ الہندوستان” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں بیرونی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق حملوں کے طریقۂ کار، ہتھیاروں کے استعمال اور اہداف کے انتخاب میں ایک مخصوص پیٹرن دیکھا گیا ہے جسے علاقائی عدم استحکام سے جوڑا جا رہا ہے۔
تصویری مماثلتوں پر سوشل میڈیا بحث
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے کہ بی ایل اے کے مبینہ سربراہ بشیر زیب کی جانب سے جاری کی گئی ایک تصویر، بھارتی فلم دھرندر میں اداکار رنویر سنگھ کی ایک تصویر سے مماثلت رکھتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا اور علامتی یا نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا جانا چاہیے۔
طورخم کا ذکر اور علاقائی پہلو
دلچسپ امر یہ ہے کہ فلم میں طورخم کو پاک افغان سرحد کہا گیا ہے جو پاکستانی مؤقف کی تائید ہے۔ افغان تجزیہ کار طورخم کو سرحد ماننے سے انکار کرتے جو عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
سکیورٹی اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق دستیاب ٹائم لائن، حملوں کے طریقۂ کار میں مماثلت، بی ایل اے کی جانب سے 30 جنوری کو “آپریشن ہیروف 2.0” کے اعلان، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی علامتی تصاویر، اور اسی روز ایک بڑی بھارتی فلم کی ریلیز، یہ سب عناصر مل کر ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر کڑی کی علیحدہ علیحدہ جانچ ضروری ہے، تاہم مجموعی تصویر واضح اشارہ دیتی ہے کہ یہ واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم نفسیاتی و سکیورٹی دباؤ کی کڑیاں ہیں۔