طالبان قیادت کی جانب سے ایسے بیانات درحقیقت افغانستان کی داخلی ناکامیوں اور بین الاقوامی تنہائی سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان عوام کا خیر خواہ رہا ہے، لیکن افغان وزراء کی جانب سے مسلسل پاکستان مخالف بیانیے اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

April 23, 2026

وحید اصغری کو رواں ہفتے منگل کے روز کابل کے علاقے قلعہ فتح اللہ میں ان کی رہائش گاہ کے قریب سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔ دو روز تک لاپتہ رہنے کے بعد ان کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔

April 23, 2026

اس جعلی پلیٹ فارم نے جھوٹی خبر پھیلائی ہے کہ صدرِ مملکت ایک موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ بے بنیاد دعویٰ بھی کیا گیا کہ فوج انہیں مستعفی ہونے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

April 23, 2026

شیڈول کے تحت پہلا جہاز ستائیس سے تیس اپریل کے دوران پہنچے گا۔ دوسرا جہاز یکم سے سات مئی جبکہ تیسرا آٹھ سے چودہ مئی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بجلی گھروں اور کارخانوں کو گیس کی فراہمی برقرار رکھنا ہے۔

April 23, 2026

امریکی صحافیوں کے مطابق امریکہ نے بحری پابندیوں کے نفاذ کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، جن میں ایران پر عائد پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرنے والے مشکوک بحری جہازوں کو روکنا بھی شامل ہے۔یہ اقدامات ایران پر سخت معاشی اور عسکری دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

April 23, 2026

وزیراعظم نے اس موقع پر چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

April 23, 2026

ہمیں وقت پر ضروری مدد نہیں مل سکی، بھارت کے نائب آرمی چیف نے کھلے لفظوں میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کا اعتراف کر لیا

انڈیا پاکستان جنگ میں بھارتی ڈپٹی آرمی چیف کا شکست کا اعتراف، چین و ترکی کی مدد اور انڈین دفاعی کمزوریوں کا انکشاف
انڈیا پاکستان چین جنگ

انڈیا پاکستان جنگ میں بھارتی ڈپٹی آرمی چیف کا شکست کا اعتراف، چین و ترکی کی مدد اور انڈین دفاعی کمزوریوں کا انکشاف

July 5, 2025

انڈیا کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی چار روزہ لڑائی کے دوران اسے ایک سرحد پر پاکستان کے علاوہ چین اور ترکی کا بھی سامنا تھا اور چین پاکستان کو انڈیا کی عسکری تنصیبات کے حوالے سے لائیو معلومات فراہم کر رہا تھا۔ صارفین اور ماہرین ان کے الفاظ اور لہجے کو برملا شکست کا اعتراف کرنے کے مترادف تشبیہ دے رہے ہیں۔

جمعے کو فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِاہتمام ‘نیو ایج ملٹری ٹیکنالوجیز’ کے عنوان سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انڈین فوج نے آپریشن سندور کے دوران کون سے سبق سیکھے۔

انھوں نے کہا کہ ‘پہلا تو یہ کہ ایک سرحد تھی لیکن دشمن دو بلکہ اگر میں کہوں تین تو غلط نہیں ہو گا۔ پاکستان سامنے تھا اور چین اسے تمام ممکنہ مدد فراہم کر رہا تھا اور یہ زیادہ اچھنبے کی بات نہیں ہے کیونکہ اگر آپ اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو گذشتہ پانچ سالوں میں 81 فیصد اسلحہ اور آلات جو پاکستان کو ملا ہے وہ سب چینی ساختہ تھے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ترکی نے بھی پاکستان کو مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بیراکتر ڈرون وہ پہلے ہی دے رہے تھے لیکن اس کے علاوہ بھی ڈرونز جنگ کے دوران نظر آئے، اور ان کے ساتھ ماہر افراد بھی موجود تھے۔’

اس کے بعد جو سبق ہم نے سیکھا وہ ‘سی 4 آئی ایس آر اور سول ملٹری فیوژن کے حوالے سے تھا۔ اس حوالے سے ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘

خیال رہے کہ سی 4 آئی ایس آر سے مراد کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشنز، کمپیوٹرز، انٹیلیجنس، سرویلینس اور ریکانیسانس ہوتا ہے اور اسے کسی بھی فوجی آپریش کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ‘جیسا کہ انڈیا کے پاس بھی روسی، فرانسیسی ساختہ ہتھیار تھے تو پاکستان نے بھی غیر ملکی ہتھیار ضرور استعمال کیے مگر انڈین طیاروں کو گرانے کے لیے جو بھی وسائل اور حکمت عملی استعمال کی گئی وہ پاکستان کی اپنی تھی۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘چین قریبی اتحادی اور ہمسایہ ہے، ہمارا زیادہ تر فوجی ہارڈویئر چین سے لیا گیا ہے، عسکری آلات اور اسلحے کی بات کی جائے تو وہ ہمارے سب سے بڑے شراکت دار ہیں۔’

پاکستان کی ایئرفورس کی جانب سے پریس بریفنگز کے دوران یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں کے باعث انڈین طیاروں کی جیمنگ عمل میں آئی تھی۔

اس حوالے ڈپٹی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے کہا کہ ‘ہمیں الیکٹرانک وارفیئر کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔’

اس کے علاوہ انھوں نے بہتر ایئر ڈیفنس نظام بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ‘ہماری شہری آبادی کو بھی تحفظ کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس اسرائیل کے طرح آئرن ڈوم اور دیگر فضائی دفاعی نظام سے اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کی سہولت اس لیے نہیں ہے کیونکہ ہمارا ملک بہت بڑا ہے اور ان کی تعمیر میں بہت زیادہ رقم درکار ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس حوالے سے نئے حل ڈھونڈنے ہوں گے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ایک اور سبق یہ تھا کہ ہمیں محفوظ سپلائی چین بنانی ہو گی۔ جو آلات ہمیں اس سال جنوری یا گذشتہ برس اکتوبر، نومبر میں ملنے چاہیے تھے، وہ ہمارے پاس موجود نہیں تھے۔

متعلقہ مضامین

طالبان قیادت کی جانب سے ایسے بیانات درحقیقت افغانستان کی داخلی ناکامیوں اور بین الاقوامی تنہائی سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان عوام کا خیر خواہ رہا ہے، لیکن افغان وزراء کی جانب سے مسلسل پاکستان مخالف بیانیے اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

April 23, 2026

وحید اصغری کو رواں ہفتے منگل کے روز کابل کے علاقے قلعہ فتح اللہ میں ان کی رہائش گاہ کے قریب سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔ دو روز تک لاپتہ رہنے کے بعد ان کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔

April 23, 2026

اس جعلی پلیٹ فارم نے جھوٹی خبر پھیلائی ہے کہ صدرِ مملکت ایک موذی مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ بے بنیاد دعویٰ بھی کیا گیا کہ فوج انہیں مستعفی ہونے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

April 23, 2026

شیڈول کے تحت پہلا جہاز ستائیس سے تیس اپریل کے دوران پہنچے گا۔ دوسرا جہاز یکم سے سات مئی جبکہ تیسرا آٹھ سے چودہ مئی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بجلی گھروں اور کارخانوں کو گیس کی فراہمی برقرار رکھنا ہے۔

April 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *