بھارت نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں علاقائی ترجیحات کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے لیے مالی امداد میں 50 فیصد کمی کر دی ہے، جس کے بعد یہ امداد 120 کروڑ روپے سے کم کر محض 60 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔ بھارتی وزارت مالیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کے لیے ترقیاتی امداد میں 200 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 150 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح نیپال کے لیے امداد میں 15 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 800 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو خطے میں بھارت کے سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سے ایک کی حیثیت ظاہر کرتا ہے۔ سری لنکا کے لیے امداد 400 کروڑ روپے برقرار رکھی گئی ہے، جو گزشتہ مالی سال کے برابر ہے۔ منگولیا کے لیے پہلی مرتبہ 25 کروڑ روپے کی نئی الاٹمنٹ دی گئی ہے، جو بھارت کے اثر و رسوخ کو وسطی ایشیا تک پھیلانے کی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق بنگلہ دیش کی امداد میں یہ بڑی کٹوتی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے اختتام کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی اور ڈھاکہ کے اسلام آباد کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے لیے امداد میں تین گنا اضافہ بھارت کی طرف سے طالبان حکومت کے ساتھ عملی تعاون کے نئے دور کا آغاز ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات بھارت کی ‘پہلے پڑوسی’ پالیسی میں ایک نئی تزویراتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد خطے میں بجلی کے ڈھانچے، سڑکوں اور پلوں جیسے اہم منصوبوں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ہے۔ مالی سال 2026-27 میں علاقائی امداد کی یہ نئی تقسیم جنوبی ایشیا میں بھارت کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور نئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کے مطابق ڈھلنے کی واضح علامت ہے۔
دیکھیے: کشتواڑ میں پندرہ روز سے جاری جھڑپوں میں بھارتی فوج کو جانی نقصان، سرچ آپریشنز میں تیزی