افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر طالبان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ تیار

اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے خواتین کے حقوق کی پامالی پر طالبان کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا؛ یورپی پارلیمنٹ افغان صورتحال کو صنفی امتیاز قرار دے چکی ہے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر طالبان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ تیار

افغان طالبان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ تیار؛ یورپی پارلیمنٹ صورتحال کو صنفی امتیاز قرار دے چکی ہے۔

July 16, 2026

اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے افغان طالبان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں دائر کیے جانے والے قانونی مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ کیس کے تحت افغان طالبان کو خواتین کے حقوق کے کنونشن 2003 کی سنگین خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں لایا جائے گا۔

آسٹریلوی تھنک ٹینک دی اسٹریٹجسٹ میں شائع ہونے والے مضمون میں اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی صدر بنائیفر نورو جی کے مطابق اگست 2021 میں اتحادی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان اب تک خواتین کے خلاف 100 سے زائد غیرقانونی احکامات جاری کر چکے ہیں۔

صدر بنائیفر نورو جی کا کہنا تھا کہ افغان خواتین پر محرم کے بغیر باہر نکلنے، نوکری کرنے اور چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر سخت پابندی عائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ اور اراکین یورپی پارلیمنٹ افغانستان کی اس سنگین صورتحال کو باقاعدہ صنفی امتیاز قرار دے چکے ہیں۔

ان کے مطابق آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی اور نیدرلینڈز کے ستمبر 2024 کے قانونی نوٹس کے بعد یہ کیس افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔

صدر اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے مطابق اقوام متحدہ کی قانونی چارہ جوئی اور مستقل عالمی دباؤ، افغان خواتین کے حقوق کی بحالی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کا فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق افغانستان میں نافذ سخت گیر قوانین نے عام عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے، جہاں خواتین اور لڑکیاں بنیادی حقوق سے مکمل محروم ہیں۔

دیکھیے: نورستان میں این ایم ایف کا طالبان اور ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

متعلقہ مضامین

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *