امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کو امریکا نے تجارتی دباؤ کے ذریعے روکا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالات شدید کشیدہ ہو چکے تھے اور5 لڑاکا طیارے تباہ کیے جا چکے تھے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا: “ہم نے کئی جنگیں روکیں، اور یہ سنجیدہ جنگیں تھیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑائی جاری تھی۔ طیارے مار گرائے جا رہے تھے، میرا خیال ہے کہ پانچ لڑاکا طیارے تباہ کیے گئے۔”
بریکنگ نیوز |
— HTN Urdu (@htnurdu) July 19, 2025
" میں نے حال ہی میں بڑی بڑی جنگیں رکوائی ہیں جن پر مجھے فخر ہے۔ بھارت اور پاکستان جیسی دو بڑی ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ بھی میں نے رکوائی۔ اس جنگ میں 5 طیارے مار گرائے گئے تھے"، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی موقف کی تائید کر دی۔ pic.twitter.com/pDfHgEGnnF
ان کا مزید کہنا تھا کہ “یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہی تھیں، اور صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی تھی۔ لیکن ہم نے اسے حل کیا — تجارت کے ذریعے۔ ہم نے کہا کہ اگر تم لوگ جنگ چاہتے ہو، تو تجارت بھول جاؤ۔”
ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے خلاف امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “آپ نے حال ہی میں دیکھا، جب ہم نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا۔” تاہم ان کے اس دعوے پر کئی بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے سوالات اٹھائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کو امریکا نے پس پردہ سفارت کاری اور اقتصادی دباؤ سے قابو میں رکھا، تاکہ خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ نہ بڑھے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کرتے رہے ہیں تاہم بھارت نے اس مؤقف کو مسترد کیا تھا۔ پاکستان نے اس وقت امریکی کردار کو سراہا تھا۔
حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے بھارت کے رافیل سمیت 5 طیارے مار گرائے ہیں جس کی شروع میں بھارت نے تردید کی تاہم بعد میں چند بھارتی جرنیلوں نے دبے لفظوں میں اس دعوے کی تائید کی تھی۔ اب ٹرمپ کے اس بیان نے پاکستانی دعوے پر مہر ثبت کر دی ہے۔