پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے بھارت کے لیے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
معاہدے کی شرائط کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس پر بھارتی اور اسرائیلی حکام نے شدید بے چینی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں پاکستان سے تنازع کی صورت میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی معاہدے کے تحت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فوج کے نائب سربراہ نے بھی اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کو چین سے سیٹلائٹ معلومات جبکہ ترکیہ سے جدید جنگی و خودکش ڈرونز کی عسکری معاونت حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاض اور نئی دہلی کے درمیان 43 ارب ڈالر کی تجارت کے باوجود سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دہائیوں پر محیط دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو ترجیح دی ہے۔
پاکستان نے دفاعی تعاؤن کے تحت ہزاروں فوجی اہلکار، جے ایف 17 جنگی طیارے اور ڈرون اسکواڈرنز سعودی عرب بھیجے ہیں، جبکہ ترکیہ کے ساتھ جدید جنگی بحری جہازوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا تبادلہ جاری ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے اس معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں طاقت کا نیا بلاک تشکیل پا چکا ہے۔
پاکستانی حکام نے اس معاہدے کو خالصتاً دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، تاہم بھارتی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت نے پاکستان کے خلاف بھارت کا عسکری اور سفارتی حساب کتاب انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دیکھیے: مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں: اسحاق ڈار