انٹیلیجنس کنسورشیم نے ایسی ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے صاحبزادے حمزہ بن لادن کو افغانستان میں دکھایا گیا ہے۔ کنسورشیم کے مطابق ویڈیو چند ماہ قبل ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم اس کے ڈیجیٹل شناختی عناصر جان بوجھ کر حذف کر دیے گئے تاکہ مقام کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔
کنسورشیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ویڈیو کا ماحول اور پس منظر ان انٹیلیجنس تجزیات سے مطابقت رکھتا ہے جن کے مطابق حمزہ بن لادن طویل عرصے کی گمنامی کے بعد ممکنہ طور پر افغانستان منتقل ہو چکا ہے۔
⚠️ BREAKING
— Transatlantic Intelligence Consortium (@TransatlanticIC) December 1, 2025
First visual proof Hamza Bin laden is alive and in #Afghanistan.
Today we are releasing a unique video of the former Crown-Prince of Jihad. ‘Former’ because he is the king now, he is Al-Qaeda’s new Emir.
Read more and watch the video 🎞️👇#HamzaBinLaden
1/6 pic.twitter.com/SE4yfZ9lyt
افغان خبر رساں ادارے خامہ نیوز نے بھی کنسورشیم کے اس دعوے کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکام نے تاحال اس معاملے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
جاری کردہ ویڈیو میں حمزہ بن لادن کو ایک کھلے مقام پر دکھایا گیا ہے، جہاں پس منظر میں کسی شہری علاقے جیسی ساخت نظر آتی ہے۔ کنسورشیم نے مقام کی نشاندہی نہیں کی، تاہم کہا گیا ہے کہ مناظر ان علاقوں سے مشابہت رکھتے ہیں جنہیں عالمی انٹیلیجنس ادارے القاعدہ کی ممکنہ پناہ گاہ کے طور پر شناخت کرتے رہے ہیں۔
طالبان کی جانب سے ہمیشہ یہی مؤقف سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں کوئی غیر ملکی شدت پسند نیٹ ورکس فعال نہیں اور نہ ہی وہ القاعدہ سمیت کسی گروہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم پاکستان، چین، ایران، روس اور تاجکستان سمیت دنیا بھر میں موجود اداروں اور رپورٹس نے متعدد بار ثبوتوں کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ القاعدہ، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو سال قبل اگست 2022 میں کابل کے علاقے شیرپور میں امریکی ڈرون حملے میں ایمن الظواہری کی ہلاکت نے طالبان اور القاعدہ کے ممکنہ روابط پر عالمی خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا تھا۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی اس امر کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ القاعدہ افغانستان میں متعدد تربیتی مراکز رکھتی ہے، جن کے لیے پروان، غزنی، لغمان اور ارزگان جیسے صوبوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
فرانسیسی تحقیقی ادارے پیرس جیو پولیٹکس اکیڈمی کی ایک رپورٹ میں یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ حمزہ بن لادن پنجشیر میں موجود ہو سکتا ہے، تاہم اس دعوے کی کوئی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔
نئی فوٹیج کے منظرعام پر آنے کے بعد مغربی انٹیلیجنس ماہرین کے درمیان بحث میں شدت آ گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ویڈیو واقعی مستند ثابت ہو جاتی ہے تو یہ اشارہ ہو سکتا ہے کہ القاعدہ کی قیادت نہ صرف فعال ہے بلکہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم حمزہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں تصدیق میں وقت لگ سکتا ہے اور اس دوران عالمی برادری افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر مزید گہری نظر رکھے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 14 ستمبر 2019 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے بیٹے، حمزہ بن لادن، ایک امریکی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حمزہ بن لادن ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوا تھا۔
حمزہ بن لادن، جسے 2017 سال قبل امریکہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا، القاعدہ کی آئندہ قیادت کا اہم امیدوار سمجھا جاتا ہے۔ تقریبا 35 سالہ حمزہ نے کئی آڈیو اور ویڈیو پیغامات میں امریکہ اور دیگر ممالک پر حملوں کی ترغیب دی تھی۔
دیکھیں: افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں تیز؛ فاریاب اور قندوز میں متعدد طالبان ہلاک