اسرائیل مئی سے غزہ میں بین الاقوامی فورس تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ فورس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے بعد کے منصوبے کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق فورس میں تقریباً 5 ہزار انڈونیشین فوجی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ قازقستان، مراکش، البانیا اور کوسووو کے درجنوں فوجی بھی دستے میں شامل ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق فورس یکم مئی سے غزہ میں آپریشن شروع کر سکتی ہے۔ ابتدائی طور پر فوجی جنوبی غزہ کے شہر رفح کے قریب تعینات ہوں گے جہاں متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک نیا فلسطینی شہر تعمیر کیا جا رہا ہے۔
بعد میں فورس کی تعیناتی غزہ کے دیگر علاقوں تک بڑھائی جائے گی، خاص طور پر اس علاقے کے قریب جسے اسرائیلی میڈیا “ییلو لائن” کہتا ہے۔ یہ وہ عارضی حد بندی ہے جہاں جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نے جزوی انخلا کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق شریک ممالک کے فوجی وفود آئندہ دو ہفتوں میں اسرائیل پہنچیں گے۔ یہ وفود تعیناتی سے پہلے غزہ کے مختلف علاقوں کا جائزہ لیں گے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ سینکڑوں غیر ملکی فوجیوں کو اگلے ماہ اردن بھیجا جائے گا جہاں انہیں تربیت دی جائے گی، اس کے بعد انہیں غزہ منتقل کیا جائے گا۔
یہ فورس ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ جنگ کا خاتمہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی نومبر 2025 میں قرارداد 2803 کے ذریعے اس منصوبے کی حمایت کی تھی۔
منصوبے کے تحت غزہ میں عبوری انتظامی ڈھانچہ بھی قائم کیا جانا ہے جس میں بورڈ آف پیس، غزہ ایگزیکٹو کونسل اور قومی انتظامی کمیٹی شامل ہوں گی جبکہ بین الاقوامی فورس سیکیورٹی، مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور انسانی امداد و تعمیرِ نو کی نگرانی کرے گی۔
دوسری جانب انڈونیشیا نے عندیہ دیا ہے کہ اگر یہ منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہ کر سکا تو وہ بورڈ آف پیس سے الگ ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد غزہ میں لڑائی رکی تھی۔ دو سالہ جنگ کے دوران 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور تعمیرِ نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔