بین الاقوامی تعلقات کے منظر نامے پر ایک ہولناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایران نے سعودی عرب کے معاشی ڈھانچے کو براہِ راست نشانہ بنا کر تمام تزویراتی حدود عبور کر لیں۔ طویل زمانے سے سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنا اسلام دشمنوں کا دیرینہ ہدف رہا ہے، مگر حالیہ تاریخ میں پہلی بار کسی علاقائی فریق نے اس حد کو عبور کرنے کی جرات کی ہے۔ ایران کی جانب سے سعودی عرب کی معاشی شہ رگ جبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ ایک ایسی ‘سرخ لکیر’ ہے جس کے بعد خطے میں طویل جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے حساس وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کی زیرِ قیادت جاری ثالثی کوششیں ایک مثبت مرحلے میں داخل ہو چکی تھیں۔ پاکستان نے فریقین کو قریب لانے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا تمام تر سفارتی سرمایہ اور ساکھ وقف کر رکھی تھی۔ ایسے ماحول میں ایران کی جانب سے سعودی معیشت کے قلب پر حملہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ یہ امن کے پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایرانی حکومت اپنے تمام فوجی اجزاء پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے؟ کیونکہ یہ اقدامات براہِ راست صیہونی ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں جو مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔
دفاعِ حرمین اور پاک سعودی دفاعی معاہدہ
تزویراتی ماہرین کے مطابق جبیل کمپلیکس پر حملہ محض ایک صنعتی تنصیب پر حملہ نہیں بلکہ یہ حرمین شریفین کے معاشی مرکزِ ثقل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ دفاعِ حرمین کا آغاز سعودی عرب کی سرحدوں سے ہوتا ہے، لہٰذا اس معاشی ڈھانچے پر حملہ بالواسطہ مکہ اور مدینہ کی سیکیورٹی کے استحکام پر حملہ ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال صرف مذہبی نہیں بلکہ قانونی طور پر بھی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ‘اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ’ موجود ہے، جس کی رو سے ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس تناظر میں ایران کا سعودی عرب پر حملہ درحقیقت پاکستان پر حملہ ہے، جو اب پاکستان کو اپنے برادر ملک کے دفاع کے لیے مشکل مگر ناگزیر فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
صبر کا پیمانہ
سعودی عرب نے اب تک شدید اشتعال انگیزی کے باوجود بے پناہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن صبر کی یہ کھڑکی اب تیزی سے بند ہو رہی ہے۔ سعودی حکومت اپنے عوام کی سیکیورٹی کے لیے جوابدہ ہے اور اسے اپنے دفاع کا مکمل مذہبی، اخلاقی اور قانونی حق حاصل ہے۔ پاکستان نے اس تنازع میں ہمیشہ قرآنی تعلیمات (سورۃ الحجرات، آیت 9) کی پیروی کی ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائی جائے، لیکن اگر ایک گروہ زیادتی سے باز نہ آئے تو زیادتی کرنے والے کے خلاف کھڑا ہونا اور مظلوم کا ساتھ دینا وقت کا تقاضا بن جاتا ہے۔
ذمہ داری کا تعین
موجودہ صورتحال میں سرحدوں کی بندش، معاشی تعطل اور انسانی بحران کا تمام تر ملبہ ان عناصر پر ہے جو غیر معقول اقدامات سے امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے بارہا یقین دہانی کرائی کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اس کے باوجود یہ حملہ ایرانی پالیسی سازوں کے ارادوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اب بھی واحد سمجھدار راستہ یہی ہے کہ ایران فوری طور پر تناؤ میں کمی لائے اور پاکستان کی زیرِ قیادت امن کی اس آخری کھڑکی سے فائدہ اٹھائے، ورنہ تاریخ کا رخ ایک ایسے تصادم کی طرف مڑ جائے گا جس کا ناقابلِ تلافی نقصان پورے خطے اور خود ایران کو ہوگا۔