بیروت/تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو وہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے، جبکہ اسرائیلی فضائیہ نے لبنان پر شدید حملے کرتے ہوئے درجنوں افراد کو جاں بحق اور سیکڑوں کو زخمی کر دیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیروت، وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زائد مراکز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس سے دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھا اور مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق حملوں میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور شہریوں سے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ جنگ بندی معاہدے سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں امریکا نے تمام محاذوں پر لڑائی روکنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں لبنان بھی شامل تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے حملے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران ایک طرف جنگ بندی سے دستبرداری پر غور کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایرانی مسلح افواج ممکنہ ردعمل کیلئے اہداف کی نشاندہی بھی کر رہی ہیں۔
ایرانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکا اپنے اتحادی اسرائیل کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہا تو ایران خود عملی اقدام اٹھانے پر مجبور ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔