اسلام آباد/تہران/واشنگٹن: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وزیراعظم شہباز شریف کے جنگ بندی اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھے گا، دونوں راستے ایک ساتھ ممکن نہیں۔
عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے سے اس معاہدے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ ایران اور بعض دیگر فریقین کا کہنا ہے کہ لبنان کو بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔
اسی دوران اسرائیلی حملوں میں بیروت اور دیگر علاقوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں حملے جاری رہے تو جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ بندی کا مستقبل براہ راست اسرائیل کی کارروائیوں اور امریکا کے ردعمل سے جڑا ہوا ہے، جبکہ پاکستان کی میزبانی میں متوقع “اسلام آباد مذاکرات” اس کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اصل چیلنج صرف جنگ بندی کا اعلان نہیں بلکہ اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا ہے، ورنہ خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔