آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

April 8, 2026

مولانا خالد امین جے یو آئی (ف) کے مقامی رہنما تھے اور ماضی میں شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤقف رکھنے کے باعث نشانے پر تھے۔

April 8, 2026

آج پاکستان ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قبضہ زمین پر نہیں بلکہ ذہن، ڈیٹا اور بیانیے پر ہو رہا ہے، مگر افسوس کی بات یہ کہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی بحث و مباحثہ تک دیکھنے میں نہیں آ رہا کجا کوئی سنجیدہ اقدام کئے جائیں۔

April 8, 2026

ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔

April 8, 2026

دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

April 8, 2026

ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کا جائزہ لے کر اس سے فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور اس مقصد کیلئے ایک باقاعدہ نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔

April 8, 2026

ایران نے امریکا کو وارننگ دے دی: بیک وقت سیز فائر اور اسرائیلی حملے ممکن نہیں؛ لبنان صورتحال پر سخت مؤقف

دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا لبنان پر حملوں پہ سخت موقف

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔

April 8, 2026

اسلام آباد/تہران/واشنگٹن: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وزیراعظم شہباز شریف کے جنگ بندی اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھے گا، دونوں راستے ایک ساتھ ممکن نہیں۔

عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے سے اس معاہدے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ ایران اور بعض دیگر فریقین کا کہنا ہے کہ لبنان کو بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔

اسی دوران اسرائیلی حملوں میں بیروت اور دیگر علاقوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں حملے جاری رہے تو جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ بندی کا مستقبل براہ راست اسرائیل کی کارروائیوں اور امریکا کے ردعمل سے جڑا ہوا ہے، جبکہ پاکستان کی میزبانی میں متوقع “اسلام آباد مذاکرات” اس کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اصل چیلنج صرف جنگ بندی کا اعلان نہیں بلکہ اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا ہے، ورنہ خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔

دیکھئیے:کوئی پاگل ہی ہو گا جو اس کامیابی پر خوش نہ ہو، حکومت کیساتھ ہیں، پاکستان اور پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی، محمود اچکزئی

متعلقہ مضامین

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

April 8, 2026

مولانا خالد امین جے یو آئی (ف) کے مقامی رہنما تھے اور ماضی میں شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤقف رکھنے کے باعث نشانے پر تھے۔

April 8, 2026

آج پاکستان ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قبضہ زمین پر نہیں بلکہ ذہن، ڈیٹا اور بیانیے پر ہو رہا ہے، مگر افسوس کی بات یہ کہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی بحث و مباحثہ تک دیکھنے میں نہیں آ رہا کجا کوئی سنجیدہ اقدام کئے جائیں۔

April 8, 2026

ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔

April 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *