امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال ڈرامائی شکل اختیار کر گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘العربیہ’ نے پاکستانی میڈیا کے ذرائع سے رپورٹ دی ہے کہ تہران کی جانب سے عوامی سطح پر تردید کے باوجود ایرانی وفد کی منگل کے روز اسلام آباد آمد متوقع ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز اعلیٰ حکومتی ذرائع نے پیر کو مذاکرات کے انعقاد کی تردید کی تھی۔
تردید اور پسِ پردہ تیاریاں
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی تاریخوں کے حوالے سے “عوامی تردید” دراصل تزویراتی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہے تاکہ مذاکرات سے قبل دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق منگل کو وفد کی آمد کا امکان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پسِ پردہ اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطے انتہائی فعال ہیں اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
کشیدگی کے سائے میں مذاکرات
یہ ممکنہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بحری حدود میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ایک طرف امریکہ نے ایرانی جہاز تحویل میں لیا ہے جس پر تہران نے سخت ردِعمل دیا ہے، اور دوسری طرف افزودہ یورینیم کی پاکستان منتقلی کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔ ان حالات میں ایرانی وفد کی منگل کو متوقع آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریقین کشیدگی کے باوجود سفارتی راستہ کھلا رکھنے پر سنجیدہ ہیں۔
پاکستان کا کلیدی کردار
اسلام آباد اس وقت عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستانی حکام اگرچہ خاموشی سے اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، تاہم منگل کو متوقع آمد کی خبروں نے دارالحکومت کے سفارتی انکلیو میں گہما گہمی بڑھا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منگل کو مذاکرات کا آغاز ہو جاتا ہے تو یہ خطے میں امن کی جانب ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔ اب تمام تر نظریں کل کے روز تہران سے آنے والی پروازوں اور وفد کی باضابطہ تصدیق پر جمی ہیں۔