لکی مروت پولیس نے ضلع کے سرحدی علاقے اخوندان کے جنگلات میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایک بڑا ٹارگٹڈ آپریشن کیا ہے۔ آپریشن کے دوران پولیس اور ‘فتنہ الخوارج’ کے دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جبکہ پولیس کا ایک بہادر جوان عتیق الرحمن جرات و بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔
انتہائی مطلوب کمانڈر ہلاک
پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت انتہائی مطلوب کمانڈر عامر سہیل عرف عقابی عرف عمر خطاب کے نام سے ہوئی ہے۔ ہلاک دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ، پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں، بم دھماکوں اور دیگر سنگین مقدمات میں قانون کو مطلوب تھا۔ کارروائی کے دوران دیگر دہشت گرد جنگلات کی آڑ لیتے ہوئے اپنے زخمی ساتھیوں کو لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کی قربانی اور عزمِ نو
ڈی پی او لکی مروت نذیر خان نے اس موقع پر کہا کہ لکی مروت پولیس دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور پولیس اس جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے شہید اہلکار عتیق الرحمن کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور دہشت گردوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
سکیورٹی صورتحال
واضح رہے کہ جس مقام پر یہ آپریشن کیا گیا، وہ بنوں کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقہ ہے اور یہاں کے گھنے جنگلات دہشت گردوں کے لیے روپوش ہونے کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔ تاہم، پولیس کی اس حالیہ کامیابی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور فرار ہونے والے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔