افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی ایک حالیہ ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جسے سفارتی حلقوں میں محض خطاب نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ‘پراکسی وار’ کا باضابطہ اعتراف تصور کیا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب میں ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے خلاف میڈیا کے جارحانہ کردار کی کھلے عام تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران افغان میڈیا اپنی افواج اور دفاعی اداروں کے ساتھ پہلی صف میں کھڑا رہا۔
پاکستانی حکام کا سخت ردِعمل
ایک اعلیٰ پاکستانی بیوروکریٹ کے مطابق ٹی ٹی اے کی جانب سے پاکستان مخالف میڈیا کوریج کی سرپرستی دراصل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ان کے گٹھ جوڑ کا بین ثبوت ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ریاستی سطح پر دشمنی کو “قومی مفاد” کا درجہ دے کر کابل انتظامیہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کاروائی نہ کرنا کوئی مجبوری نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی دشمنانہ پالیسی ہے۔
⭕️TTA Confirms Its Role in the Proxy War Against Pakistan
— Pak-Afghan Matters (@pakafghanmatter) April 19, 2026
The latest footage of TTA spokesperson @Zabehulah_M33 is not just a speech; it is a confession. By hailing the media’s role in fueling tensions against Pakistan, the TTA has openly signaled that it views the subversion of… pic.twitter.com/OxPCgEYD1r
ٹی ٹی پی: کابل کا اثاثہ
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی “میڈیا فرنٹ لائن” کی تعریف تبھی کی جاتی ہے جب آپ خود عسکری فرنٹ لائن کی پشت پناہی کر رہے ہوں۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ افغان طالبان دراصل ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کے لیے نظریاتی اور عملی سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں کوئی “مہاجر گروہ” نہیں بلکہ کابل کا ایک محفوظ اثاثہ ہے جسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
سفارتی موؤف
پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ اگرچہ وہ ہمیشہ سے ایک مستحکم اور پرامن افغانستان کا خواہاں رہا ہے، تاہم پاکستان کے قاتلوں کو پناہ دینے والوں کے لیے اب مزید “مہمان نوازی” ممکن نہیں۔ سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کے اس اعتراف کے بعد پاک افغان تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہوگی اور پاکستان بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنی سرحدی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔