حالیہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 18 اور 19 جنوری کو ایران میں ہونے والے شدید احتجاج کے دوران مظاہرین کے قتل میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس اور اس کے علاقائی اتحادی مسلح گروہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق افغان لشکر فاطمیون، پاکستانی لشکر زینبیون اور عراقی حشد الشعبی سے وابستہ جنگجوؤں نے ان دنوں ہونے والی ہلاکتوں میں نمایاں حصہ لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان غیر ملکی فورسز کو براہِ راست مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
افرادی قوت کی کمی، غیر ملکی جنگجوؤں کا سہارا
عرب ممالک کے امور کے ماہر حسن ہاشمیان نے ایران اینٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام کو سیکیورٹی اہلکاروں کی شدید کمی کا سامنا تھا، جس کے باعث انہوں نے غیر ملکی جنگجوؤں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ملک بھر میں احتجاج کی وسعت اتنی زیادہ تھی کہ مقامی سیکیورٹی فورسز کے لیے صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہا تھا۔
ایران اینترنشنال به جزئیات تازهای دست یافته است که نشان میدهد نیروی قدس سپاه و نیروهای نیابتی همپیمان آن در منطقه، نقش محوری در کشتن معترضان ایرانی در روزهای ۱۸ و ۱۹ دی داشتند.
— ايران اينترنشنال (@IranIntl) January 17, 2026
بر اساس این اطلاعات، لشکر فاطمیون افغانستان، لشکر زینبیون پاکستان و نیروهای حشد الشعبی عراق بخش… pic.twitter.com/HcAhiZXoMN
دو دن میں ہزاروں ہلاکتوں کا دعویٰ
حسن ہاشمیان نے کہا کہ صرف دو دن کے دوران 12 ہزار سے 20 ہزار افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ گروہ خاص طور پر قتل و غارت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ ان کے بقول یہ جنگجو پیشہ ور قاتل ہیں جنہیں عراق اور شام میں لڑائی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
علاقائی جنگجوؤں کا کردار
رپورٹ کے مطابق لشکر فاطمیون، لشکر زینبیون اور حشد الشعبی کے اہلکار پہلے بھی ایران کی جانب سے علاقائی تنازعات میں استعمال کیے جاتے رہے ہیں، تاہم پہلی مرتبہ ان پر ایران کے اندر اپنے ہی شہریوں کے خلاف براہِ راست کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام سامنے آیا ہے۔
انسانی حقوق پر سنگین سوالات
ان انکشافات کے بعد ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی مسلح گروہوں کو مظاہرین کے خلاف استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاستی تشدد کی ایک خطرناک مثال بھی ہے۔
دیکھیں: کابل میں افغانستان فرنٹ فار فریڈم کا چیک پوسٹ پر حملہ، دو طالبان ہلاک