اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج مقبوضہ علاقوں سے کسی صورت واپس نہیں جائے گی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں ان عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں دو شہری شہید اور ایک زخمی ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ لبنان کے تمام علاقوں سے فوری طور پر نہ نکلا تو اسے ذلت اور عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری طرف، بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اہم اجلاس کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکا اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت پر ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی فیس، ٹول ٹیکس یا دیگر پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اجازت کے بغیر کسی کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سفارتی مبصرین کے مطابق ان متوازی بیانات اور فوجی کارروائیوں کے باعث خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور کشیدگی بدستور برقرار ہے۔