اسلام آباد: شوکت نواز میر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے گرد گھومتا بیانیہ اب شدید سوالات کی زد میں آ گیا ہے، جہاں بظاہر عوامی حقوق کے نام پر چلنے والی تحریک کو مفاداتی سیاست اور اثر و رسوخ کے حصول کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق JAAC کا پلیٹ فارم خود ایک بڑا سوال بن چکا ہے کہ کیا یہ واقعی عوامی مفاد کا ترجمان ہے یا ذاتی اثر و رسوخ کا ذریعہ؟ کیونکہ بارہا دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی حکومتی سطح پر مطالبات تسلیم ہونے لگتے ہیں، فوری طور پر نئے تنازعات کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم ہو جائیں تو نئی تحریک کیوں شروع کر دی جاتی ہے؟ یہ عمل عوامی مسائل کے حل کے لئے نہیں بلکہ اپنا دباؤ برقرار رکھنے کی طرف نشاندہی کرتا ہے، جو ایک منظم حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے
سیاسی حلقوں کے مطابق شوکت نواز میر کی قیادت میں JAAC مسلسل ریاستی اداروں پر تنقید اور اشتعال انگیز بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہے، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اصلاح کی کوشش کم اور اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی زیادہ ہے
سوشل میڈیا پر بھی JAAC کی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں مبصرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے بیانیہ سازی، عوامی شعور کے لئے نہیں بلکہ نوجوانوں کو جذباتی انداز میں متحرک کر کے ایک خاص بیانیہ مسلط کرنے کے لئے کی جا رہی ہے۔
مزید برآں، ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر طاقت کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل الزامات، اشتعال انگیزی اور نئے تنازعات پیدا کرنے کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تحریک عوامی مسائل کے حل سے زیادہ سیاسی فائدے کے حصول پر مرکوز ہو چکی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ کشمیری عوام خود فیصلہ کریں کہ کون حقیقی نمائندہ ہے اور کون عوامی اعتماد کو سیاسی مفادات کیلئے استعمال کر رہا ہے۔
دیکھئیے:جھل مگسی کے تھانہ کوٹرا پر فتنہ الخوارج کا حملہ؛ 11 سالہ بچہ شہید، دو حملہ آور ہلاک