واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ حالیہ مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے انتہائی اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات میں ایران، امریکا اور ثالث ممالک کے نمائندوں کے درمیان تفصیلی بات چیت متوقع ہے جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہے۔
روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ان کا یہ دورہ مختصر ہوگا اور وہ سوئٹزرلینڈ میں ایک سے دو دن قیام کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سفارتی مشن کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان میں مستقل جنگ بندی کے حوالے سے اہم اور مثبت پیش رفت حاصل ہو سکتی ہے۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ دو بڑے موضوعات عالمی برادری کی توجہ کا مرکز ہیں اور مذاکرات میں انہی پر توجہ مرکوز رہے گی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینا ہے۔
اس پورے سفارتی عمل میں پاکستان اور قطر سمیت دیگر ثالث ممالک بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مذاکرات کے ایجنڈے میں ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ خطے میں استحکام، لبنان کی نازک صورتحال اور جنگ بندی کے مستقبل جیسے تزویراتی امور شامل ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ان مذاکرات میں براہ راست شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ ان مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کی خواہاں ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف امریکا اور ایران کے باہمی تعلقات پر پڑیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ایک بڑی اور خوش آئند تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔