واشنگٹن/اسلام آباد: امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے والے وفد کی قیادت کے حوالے سے چند گھنٹوں میں متضاد بیانات سامنے آنے کے بعد بالآخر وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس ہی امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔
ابتدائی طور پر امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ مائیک والٹز نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ تاہم اس کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ سکیورٹی وجوہات اور کم وقت کے باعث وینس اس دورے میں شریک نہیں ہوں گے۔
اس دوران بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف پاکستان جائیں گے جبکہ جیرڈ کشنر بھی اس عمل میں شامل ہوں گے، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی۔
تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ایک اور وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالات میں تبدیلی آئی ہے اور اب جے ڈی وینس نہ صرف اسلام آباد جائیں گے بلکہ وہی امریکی وفد کی قیادت بھی کریں گے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق “صورتحال بدل گئی ہے”، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا گیا۔
تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی وفد میں جے ڈی وینس کے ساتھ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے، جو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے اہم مذاکرات کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چند گھنٹوں میں پالیسی کا اس طرح بدلنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذاکرات کی اہمیت اور حساسیت انتہائی زیادہ ہے، اور امریکا اس عمل کو ہر ممکن سطح پر کامیاب بنانے کے لیے اپنی اعلیٰ قیادت کو شامل کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھے جا رہے ہیں، جہاں پاکستان ایک کلیدی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
دیکھئیے:ٹرمپ کا بڑا اعلان، امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد پہنچیں گے