مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 12 مہاجر نشستوں کے خلاف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ منفی مہم اور پروپیگنڈا دراصل حقِ خودارادیت اور اقوامِ متحدہ کے تحت استصوابِ رائے کے بنیادی مؤقف کو شدید نقصان پہنچانے کی ایک گہری سیاسی سازش ہے۔
سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ 12 نشستیں محض انتخابی نمائندگی کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ مسئلہ کشمیر، جموں و کشمیر کی سیاسی وحدت اور بھارتی قبضے کے خلاف بے گھر ہونے والے لاکھوں کشمیریوں کی زندہ سیاسی گواہی کا سب سے بڑا ستون ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت، جس میں شوکت نواز میر، سردار عمر نذیر، سردار امان اور خواجہ مہران جیسے عناصر شامل ہیں، عوامی حقوق کی آڑ لے کر روزانہ کی بنیاد پر ان نشستوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
ان کا یہ متعصبانہ بیانیہ مہاجر کشمیریوں کی سیاسی آواز کو دبانے اور کشمیریوں کے مابین اندرونی انتشار پیدا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود، اس کمیٹی کی طرف سے احتجاج، پہیہ جام ہڑتالوں اور بدامنی کا تسلسل برقرار رکھنا ثابت کرتا ہے کہ ان کا مقصد عوامی خدمت نہیں، بلکہ کسی مخصوص اور پوشیدہ بیرونی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجر نشستوں کو متنازع بنانا دراصل پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مشترکہ اور دیرینہ مؤقفِ استصوابِ رائے پر وار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ خطرناک سیاست بالواسطہ طور پر بھارتی بیانیے کو سیاسی سہولت فراہم کر رہی ہے، جو پہلے ہی تحریکِ آزادیِ کشمیر کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کو اس وقت حقوق کے نام پر کسی قسم کی بدامنی یا تقسیم کی ضرورت نہیں، بلکہ قومی یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنی اس منفی روش سے باز آنا چاہیے، کیونکہ 12 مہاجر نشستوں کا تحفظ دراصل کشمیر کاز اور شہدائے کشمیر کی قربانیوں کا تحفظ ہے۔
دیکھئیے:جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی ہڑتال پر شدید تحفظات؛ مسائل کا حل ہڑتال نہیں بلکہ مذاکرات ہیں