"> کشمیر کاز پر وار؛ مہاجر نشستوں کے خلاف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی مہم، استصوابِ رائے کو کمزور کرنے کی سازش قرار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کشمیر کاز پر وار؛ مہاجر نشستوں کے خلاف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی مہم، استصوابِ رائے کو کمزور کرنے کی سازش قرار

مہاجر نشستوں کو متنازع بنانا دراصل پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مشترکہ اور دیرینہ مؤقفِ استصوابِ رائے پر وار کرنے کے مترادف ہے۔
جوائنٹ اکشن کمیٹی

ان کا یہ متعصبانہ بیانیہ مہاجر کشمیریوں کی سیاسی آواز کو دبانے اور کشمیریوں کے مابین اندرونی انتشار پیدا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

May 18, 2026

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 12 مہاجر نشستوں کے خلاف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ منفی مہم اور پروپیگنڈا دراصل حقِ خودارادیت اور اقوامِ متحدہ کے تحت استصوابِ رائے کے بنیادی مؤقف کو شدید نقصان پہنچانے کی ایک گہری سیاسی سازش ہے۔

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ 12 نشستیں محض انتخابی نمائندگی کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ مسئلہ کشمیر، جموں و کشمیر کی سیاسی وحدت اور بھارتی قبضے کے خلاف بے گھر ہونے والے لاکھوں کشمیریوں کی زندہ سیاسی گواہی کا سب سے بڑا ستون ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت، جس میں شوکت نواز میر، سردار عمر نذیر، سردار امان اور خواجہ مہران جیسے عناصر شامل ہیں، عوامی حقوق کی آڑ لے کر روزانہ کی بنیاد پر ان نشستوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

ان کا یہ متعصبانہ بیانیہ مہاجر کشمیریوں کی سیاسی آواز کو دبانے اور کشمیریوں کے مابین اندرونی انتشار پیدا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود، اس کمیٹی کی طرف سے احتجاج، پہیہ جام ہڑتالوں اور بدامنی کا تسلسل برقرار رکھنا ثابت کرتا ہے کہ ان کا مقصد عوامی خدمت نہیں، بلکہ کسی مخصوص اور پوشیدہ بیرونی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجر نشستوں کو متنازع بنانا دراصل پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مشترکہ اور دیرینہ مؤقفِ استصوابِ رائے پر وار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ خطرناک سیاست بالواسطہ طور پر بھارتی بیانیے کو سیاسی سہولت فراہم کر رہی ہے، جو پہلے ہی تحریکِ آزادیِ کشمیر کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔

آزاد کشمیر کے عوام کو اس وقت حقوق کے نام پر کسی قسم کی بدامنی یا تقسیم کی ضرورت نہیں، بلکہ قومی یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنی اس منفی روش سے باز آنا چاہیے، کیونکہ 12 مہاجر نشستوں کا تحفظ دراصل کشمیر کاز اور شہدائے کشمیر کی قربانیوں کا تحفظ ہے۔

دیکھئیے:جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی ہڑتال پر شدید تحفظات؛ مسائل کا حل ہڑتال نہیں بلکہ مذاکرات ہیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *