سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ کابل میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والا حالیہ دھماکے کا منصوبہ پاکستان میں بنایا گیا تھا۔ رحمت اللہ نبیل نے مزید کہا کہ پاکستان میں داعش خراسان کا ایک “آپریشنل سینٹر” موجود ہے، جسے ان کے بقول پاکستانی اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ دعوے پاکستانی حکام کی جانب سے فوری طور پر مسترد کیے گئے ہیں۔
دھماکے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس گروہ کے خالد المناط نامی ایک رہنماء شہرِنو (افغانستان) میں سرگرم ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اسی خطے سے کی گئی۔
سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل کی گفتگو پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں، کیونکہ ان کے گزشتہ الزامات زیادہ تر افواہوں اور تعصب پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہذا اس حملے کے بعد سابق افغان انٹیلی جنس چیف کو اپنی کمزوری کو پڑوسی ملک پر ڈالنے کے بجائے افغان طالبان کے امن وامان کے دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔
بر اساس اطلاعات، فردی به نام خالد المنات رهبری یک شبکه داعش خراسان را در منطقه نوشهر (نوښار) پاکستان بر عهده دارد که در هماهنگی با اداره استخبارات نظامی پاکستان فعالیت میکند. طبق همین اطلاعات، برنامهریزی حمله روز گذشته در شهر کابل نیز در مرکز داعش واقع در نوشهر و به هدایت خالد… https://t.co/a9Cf1Oc7Lp
— Rahmatullah Nabil (@RahmatullahN) January 20, 2026
طالبان کے اندرونی معاملات
واقعے نے طالبان انتظامیہ کے اندرونی نظم و نسق اور سلامتی کے اُمور پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات وزارت داخلہ سمیت طالبان کی سکیورٹی ایجنسیوں پر تنقید کا باعث بنتے ہیں۔ افغانستان کے داخلی حالات کے ماہرین طالبان کے مختلف دھڑوں، خاص طور پر وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے حامی گروہ اور دیگر قدامت پسند گروہوں کے مابین اختیارات کی سیاسی کشمکش کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حقانی گروپ کا مؤقف عملی پالیسیوں اور ادارہ جاتی نظم کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، جبکہ قندھار کے بعض قدامت پسند حلقے اسے اپنے اثر و رسوخ کے لیے چیلنج تصور کرتے ہیں۔ یہ داخلی تفاوت حکومت کے متحدہ فیصلہ سازی اور موثر سیکیورٹی آپریشنز میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق کابل دھماکہ نہ صرف داعش خراسان کی بین الاقوامی اور علاقائی فعالیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ طالبان کے اندرونی اختلافات، وزارت داخلہ کی کمزوری اور گروہی طاقت کی سیاست کو بھی سامنے لاتا ہے، جو افغانستان میں استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔