کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سیکیورٹی ڈسٹرکٹ 18 کے ایک علاقے سے دو خواتین کی لاشیں ملی ہیں جنہیں انتہائی پراسرار حالات میں قتل کیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتولین میں سے ایک کی عمر 19 سال اور دوسرے کی تقریباً 35 سال بتائی جاتی ہے۔ ان لاشوں کو سب سے پہلے علاقے کے رہائشیوں نے دیکھا جس کے بعد مقامی انتظامیہ کو مطلع کیا گیا، تاہم ابھی تک قتل کی وجوہات اور ملزمان کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور اس قسم کے مبہم قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوامی حلقوں، بالخصوص خواتین میں شدید تشویش اور خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک بھر سے تقریباً روزانہ ہی خواتین پر تشدد اور ان کے لرزہ خیز قتل کی دردناک خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر واقعات میں نہ تو قتل کے پیچھے چھپے محرکات کا پتہ چل پاتا ہے اور نہ ہی مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے، جس سے جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔
مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے دعووں کے باوجود خواتین کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات انتہائی ناکافی ہیں۔ کابل کے اس حالیہ واقعے نے ایک بار پھر دارالحکومت کے امن و امان کی صورتحال پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام اور متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین جرائم کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی اس بزدلانہ خونی لہر کو روکنے کے لیے فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔