"> کابل میں دو خواتین کی پراسرار لاشیں برآمد: افغانستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے پرتشدد واقعات پر عوامی تشویش میں اضافہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کابل میں دو خواتین کی پراسرار لاشیں برآمد: افغانستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے پرتشدد واقعات پر عوامی تشویش میں اضافہ

مقامی ذرائع کے مطابق مقتولین میں سے ایک کی عمر 19 سال اور دوسرے کی تقریباً 35 سال بتائی جاتی ہے۔ ان لاشوں کو سب سے پہلے علاقے کے رہائشیوں نے دیکھا جس کے بعد مقامی انتظامیہ کو مطلع کیا گیا، تاہم ابھی تک قتل کی وجوہات اور ملزمان کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
کابل میں خواتین کی لاشیں

افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور اس قسم کے مبہم قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوامی حلقوں، بالخصوص خواتین میں شدید تشویش اور خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

May 14, 2026

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل کے سیکیورٹی ڈسٹرکٹ 18 کے ایک علاقے سے دو خواتین کی لاشیں ملی ہیں جنہیں انتہائی پراسرار حالات میں قتل کیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتولین میں سے ایک کی عمر 19 سال اور دوسرے کی تقریباً 35 سال بتائی جاتی ہے۔ ان لاشوں کو سب سے پہلے علاقے کے رہائشیوں نے دیکھا جس کے بعد مقامی انتظامیہ کو مطلع کیا گیا، تاہم ابھی تک قتل کی وجوہات اور ملزمان کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور اس قسم کے مبہم قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوامی حلقوں، بالخصوص خواتین میں شدید تشویش اور خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک بھر سے تقریباً روزانہ ہی خواتین پر تشدد اور ان کے لرزہ خیز قتل کی دردناک خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر واقعات میں نہ تو قتل کے پیچھے چھپے محرکات کا پتہ چل پاتا ہے اور نہ ہی مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے، جس سے جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔

مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے دعووں کے باوجود خواتین کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات انتہائی ناکافی ہیں۔ کابل کے اس حالیہ واقعے نے ایک بار پھر دارالحکومت کے امن و امان کی صورتحال پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام اور متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین جرائم کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی اس بزدلانہ خونی لہر کو روکنے کے لیے فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دیکھئیے:بی بی سی کی یکطرفہ رپورٹنگ: کابل میں شہری آبادی کے درمیان اسلحہ ڈپو اور دہشت گرد ٹھکانوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کا انکشاف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *