کابل میں طالبان انٹیلی جنس اہلکاروں نے ایک گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ مارا، جہاں جرمنی منتقلی کے منظورشدہ پروگرام کے تحت روانگی کے منتظر درجنوں افغان شہریوں کو حراست میں لے کر گھنٹوں تک تفتیش کی گئی۔
افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ کاروائی ان افغان شہریوں کے خلاف کی گئی جنہیں جرمن حکام نے ری لوکیشن پروگرام کے تحت قبول کر لیا تھا۔ طالبان اہلکاروں نے گیسٹ ہاؤس کو گھیرا ڈال کر تمام رہائشیوں کے سفری دستاویزات اور ذاتی معلومات کی جانچ پڑتال کی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد کو کئی گھنٹوں تک تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا، تاہم اس واقعے سے گیسٹ ہاؤس میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔
Taliban intelligence agents raided a guesthouse in Kabul housing dozens of Afghans accepted for relocation to Germany, detaining and interrogating residents for hours, informed sources told Afghanistan International.https://t.co/SEaR20kIDA pic.twitter.com/WEVS21RUFW
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) January 20, 2026
طالبان حکام نے اب تک اس کارروائی کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین نے اس واقعے کو افغانستان میں نقل مکانی کے عمل میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے طالبان انتظامیہ سے وضاحت طلب کی ہے۔
مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب افغانستان سے مہاجرین کی منتقلی کے عمل میں پہلے ہی شدید رکاوٹیں اور سکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔ بین الاقوامی ادارے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دیکھیں: امارتِ اسلامی افغانستان میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز