افغانستان کے شہر قندھار کے ایک ہسپتال سے افغان ٹائمز کے دو نمائندوں شہباز اخوندزادہ اور مجتبیٰ نوری کو طالبان نے حراست میں لے لیا ہے۔ افغان میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مبینہ طور پر دونوں صحافی فضائی حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کے انٹرویوز ریکارڈ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ طالبان سیکیورٹی اہلکاروں نے ہسپتال کے اندر کارروائی کرتے ہوئے کیمرہ اور ریکارڈنگ کا سامان ضبط کیا اور صحافیوں کو زبردستی ساتھ لے گئے۔ دونوں صحافیوں کی موجودہ حالت اور مقام سے متعلق کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
حقائق چھپانے کی کوشش
دفاعی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں سے متعلق سچائی چھپانے کی کوشش ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر گروہوں کی افغان سرزمین پر موجودگی پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس واقعے سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ طالبان رجیم مبینہ دہشت گردوں کی شناخت اور حقائق کو میڈیا کے سامنے آنے سے روکنا چاہتی ہے۔
آزادی صحافت؟
افغانستان میں میڈیا ورکرز کی گرفتاریوں اور ان پر تشدد کے بڑھتے واقعات نے صحافتی آزادی کے دعووں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بیرونی بیانات اور الزامات کی آڑ میں اصل مسئلے یعنی دہشت گردوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حقائق سامنے لانے والے آزاد صحافیوں کو خاموش کرانا اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: پاکستان کی جوابی کارروائی، طالبان کا ردعمل زمینی حقائق کے برعکس قرار