بلوچستان کے ضلع کیچ میں 30 سالہ خاتون ماہ گل کو مبینہ طور پر مسلح تنظیم میں شمولیت سے انکار پر اغوا کرکے قتل کردیا گیا۔
مقامی افراد کے مطابق ماہ گل پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک عناصر کی جانب سے تنظیم میں شامل ہونے اور اس کی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
خاتون نے مبینہ طور پر مسلح تنظیم کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد اسے دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
اہل علاقہ کے مطابق ماہ گل کو مبینہ طور پر زبردستی گھر سے لے جایا گیا۔ اسے کئی روز تک دباؤ میں رکھا گیا اور تنظیم کے ساتھ تعاون پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
ماہ گل کے قتل کے واقعے نے کالعدم بی ایل اے کے انسانی حقوق اور بلوچ حقوق سے متعلق دعوؤں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ عام شہریوں، خصوصاً خواتین، کو دباؤ کے ذریعے مسلح سرگرمیوں کا حصہ بنانا اور انکار پر تشدد کرنا کسی بھی طور حقوق کی جدوجہد نہیں ہو سکتی۔
واقعے کے بعد علاقے میں خواتین اور عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
بی ایل اے کی بربریت
مقامی افراد کے مطابق مسلح گروہوں کی جانب سے بعض شہریوں کو اپنی سرگرمیوں میں شامل ہونے یا تعاون کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
ماہ گل کا قتل اسی سلسلے کا ایک سنگین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک خاتون کو اپنی مرضی کے خلاف مسلح تنظیم میں شامل ہونے سے انکار پر جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اس واقعے نے بلوچستان میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
علاقے میں سرچ آپریشن اور تفتیش جاری ہے۔ سکیورٹی ادارے واقعے میں ملوث افراد تک پہنچنے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ماہ گل کے قتل میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
دیکھیے: مٹہ میں سرچ آپریشن، دہشت گرد نیٹ ورک کے 6 مسلح افراد گرفتار