وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا جرم دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نہ صرف اس جنگ سے لاتعلق رہی بلکہ بھتے کی صورت میں انتہا پسندوں کو مالی وسائل بھی فراہم کیے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی اس جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
وفاق پر چڑھائی
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے حالات کو محض سیاسی احتجاج یا لانگ مارچ کے تناظر میں دیکھنا اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ صوبائی حکومت کب تک وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوششیں کرتی رہے گی؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ قومی اداروں کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا واحد مقصد سرکاری خزانے کی لوٹ مار ہے۔ صوبائی وسائل کا ایک بڑا حصہ پارٹی قیادت تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شہدا کے جنازوں سے صوبائی حکومت کی غیر حاضری افسوسناک ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے میں مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں مؤثر گورننس پر جان بوجھ کر توجہ نہیں دی گئی۔
قومی ایجنڈا اور آئینی تقاضے
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ امن و امان کا قیام اور وفاقی استحکام قومی ترجیحات ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کے لیے تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
خواجہ آصف نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کو اب حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف واضح کرے کہ اس کا نصب العین ایک شخص کے مفادات کا تحفظ ہے یا ریاست پاکستان کی سلامتی اور بقا ہے۔