افغانستان کے صوبہ خوست کے گورنر مولوی عبدالقیوم مختار نے ایک دینی مدرسے کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین پر حملہ کیا گیا تو اس کے دفاع میں جہاد فرض ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی امارت اور عوام کو چاہیے کہ وہ دوحہ معاہدے اور کابل میں علمائے کرام کی قرارداد کا احترام کریں اور افغانستان سے باہر کسی بھی ملک میں جہاد سے گریز کریں۔
مولوی مختار نے مجاہدین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسلامی امارت نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس لیے افغانستان کے علاوہ کسی اور ملک میں جہاد یا کسی اور مقصد کے لیے جانا درست نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مجاہدین صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں اور معاہدے کے ساتھ وفادار رہیں۔ ان بیانات میں بظاہر علاقائی امن اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری پر زور دیا گیا۔
خوست کے گورنر نے صوبے میں خودکش واقعات کی روک تھام کے لیے ایک سخت فیصلے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق اب ایسے افراد کے جنازوں اور تعزیتی تقریبات میں، جنہوں نے خودکشی کی ہو، صرف قریبی خاندان کے افراد کو شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے بے گناہ افراد کے قتل کی روک تھام کے لیے شریعت کے مطابق سزاؤں پر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسی تقریب سے افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ شاہاب الدین دلاور نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بہت سے دشمن ہیں جو مختلف سازشیں کر رہے ہیں، تاہم عوامی خدمت، اتحاد اور نظام سے وابستگی کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے اسلامی نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔
اگرچہ خوست کے گورنر اور دیگر افغان حکام کے بیانات میں دوحہ معاہدے کی پاسداری کا دعویٰ کیا گیا، مگر زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ 2021 کے بعد سے پاکستان میں ہزاروں سرحد پار حملے اور دراندازیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک گروہوں کا کردار سامنے آیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب طالبان حکومت یہ یقین دہانی کراتی رہی ہے کہ افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 2022 سے 2025 تک کی رپورٹس میں بارہا افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی، تربیتی مراکز، قیادت کے ڈھانچے اور لاجسٹک نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جو دوحہ معاہدے کی اس شق کے برعکس ہے جس میں عسکریت پسندوں کو پناہ، تربیت یا سہولت فراہم کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ان رپورٹس کے مطابق یہ سرگرمیاں افغان سرزمین پر کسی نہ کسی درجے کی عملی گنجائش کے بغیر ممکن نہیں۔
“جہاد صرف افغانستان کے اندر” کا بیانیہ بظاہر پرامن دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے باوجود ٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان کے اندر آزادانہ نقل و حرکت، تنظیم نو، پروپیگنڈا اور پاکستان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ محض بیانات تک محدود پالیسی ہے یا واقعی اس پر مؤثر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔
پاکستان اس خلا کی سب سے بڑی قیمت ادا کر چکا ہے۔ 2021 کے بعد سے ٹی ٹی پی سے منسلک تشدد کے واقعات میں سیکڑوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، حالانکہ کابل کی جانب سے بارہا سفارتی سطح پر یقین دہانیاں کرائی جاتی رہی ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
دوحہ معاہدے پر حقیقی عملدرآمد کا تقاضا محض تقاریر یا بیانات نہیں بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کا خاتمہ، قیادت کی گرفتاری، تربیتی نیٹ ورکس کی بندش اور علاقائی انٹیلی جنس تعاون شامل ہے۔ جب تک یہ عملی اقدامات سامنے نہیں آتے، تب تک دوحہ معاہدے سے وابستگی کے دعوے سیاسی پیغام رسانی تو ہو سکتے ہیں، مؤثر پالیسی نہیں۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی