خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کے اختیارات اور مراعات سے متعلق ترامیم پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق مسودے کی محض چار شقیں ایسی ہیں جن پر سنجیدہ اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ دیگر صوبوں میں بعض عمومی مراعات کی موجودگی کے سبب تنقید کا دائرہ صرف ان چار نکات تک محدود رہنا فطری امر ہے۔
پہلی متنازع شق کا تعلق ضلعی افسران کی طلبی سے ہے۔ ترمیم کے تحت خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان اپنے حلقوں میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کو باقاعدہ اجلاس میں طلب کر سکتے ہیں۔ افسران کے لیے اس حکم کی تعمیل لازمی قرار دی گئی ہے۔ ملک کی کسی دوسری صوبائی اسمبلی میں ارکان کو انتظامی افسران پر ایسا براہِ راست اختیار حاصل نہیں۔
دوسرا نکتہ سرکاری اجلاسوں کی صدارت کا ہے۔ نئی ترمیم کی رو سے اگر کسی سرکاری، حکومتی یا خودمختار ادارے کے اجلاس میں گورنر یا متعلقہ وزیر شریک نہ ہوں تو رکن اسمبلی اس اجلاس کی صدارت کر سکتا ہے۔ دیگر صوبائی اسمبلیوں کے قوانین میں ارکان کو اس نوعیت کے صدارتی اختیارات حاصل نہیں۔
تیسری اہم ترمیم ارکانِ اسمبلی کی گرفتاری کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ پولیس اب کسی بھی رکن اسمبلی کو گرفتار کرنے سے قبل اسپیکر سے باضابطہ پیشگی اجازت لینے کی پابند ہو گی۔ اسپیکر کو چالان پیش ہونے سے قبل معاملے کی انکوائری کرانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
دیگر صوبوں میں اسپیکر کا اختیار محض اسمبلی کے احاطے کے اندر گرفتاری تک محدود رہتا ہے، جبکہ حدود سے باہر ایسی کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں۔
چوتھا معاملہ ارکان اور ان کے شریکِ حیات کے لیے تاحیات مفت پاسپورٹ کی فراہمی کا ہے۔ اگرچہ سندھ اسمبلی میں ارکان کے لیے یہ سہولت موجود ہے، تاہم خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں شریکِ حیات کو تاحیات مفت پاسپورٹ کی رعایت حاصل نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی چاروں شقیں صوبائی قانون سازی کے دائرہ کار اور انتظامی توازن کے حوالے سے بنیادی سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔