"> محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں 92 کروڑ کی مبینہ بے ضابطگیاں

پی ٹی آئی دور میں کے پی محکمہ تعلیم میں 92 کروڑ کی کرپشن کا انکشاف

خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں 92 کروڑ روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں نے پی ٹی آئی کے 13 سالہ دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔
محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں 92 کروڑ کی مبینہ بے ضابطگیاں

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں اسکولوں کی مرمت اور اساتذہ کی بھرتیوں میں کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صوبے کے لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔

October 23, 2026

خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں سامنے آنے والی بانوے کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیاں اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے صوبے کے تعلیمی نظام کے کھوکھلے پن کو بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے لاکھوں بچوں کا مستقبل معیاری تعلیم اور محفوظ اسکولوں کی راہ دیکھ رہا ہے، اساتذہ کی بھرتیوں، ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی فراہمی اور اسکولوں کی مرمت جیسے بنیادی امور میں کرپشن کے یہ انکشافات انتہائی تشویشناک ہیں۔

بنوں سے لے کر ہری پور تک خستہ حال عمارتیں اور چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بونیر میں ناقابلِ استعمال کلاس رومز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والوں کے تیرہ سالہ دور میں کس بے دردی سے قومی وسائل کو لوٹا گیا۔

جب صوبے کا وہ سب سے اہم اور مقدس شعبہ جو قوم کے معمار تیار کرتا ہے، اس طرح کی بدترین کرپشن اور نااہلی کی نذر ہو جائے، تو یہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے کہ باقی محکموں کا کیا حال کیا گیا ہوگا۔ صحت، مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور دیگر تمام عوامی فلاحی اداروں میں کرپشن اور بدانتظامی کے ان دائروں کا تخمینہ لگانا مشکل نہیں ہے جہاں عوام کا خون پسینہ نچوڑا گیا۔

جہاں علم اور تعلیم کے نام پر ملنے والے فنڈز میں دیدہ دلیرانہ خوردبرد کی جائے، وہاں ترقیاتی منصوبے صرف کاغذی کارروائیوں اور جھوٹے اشتہارات کی حد تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی طویل تیرہ سالہ مسلسل حکومت نے خیبرپختونخوا کے غریب عوام کو ترقی اور تبدیلی کے فریب کے علاوہ صرف اور صرف مایوسی کے اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تبدیلی اور میرٹ کا پرچار کرنے والے ان حکمرانوں نے اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے اپنے سیاسی مفادات اور ذاتی غرض کے لیے استعمال کیا۔

تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر صرف ڈھکوسلے کیے گئے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریک کر کے فنڈز کو کرپشن کی نذر کر دیا گیا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت اور کھلی لوٹ مار کا کڑے سے کڑا حساب لیا جائے۔ آڈیٹر جنرل کی اس چشم کشا رپورٹ پر محض کاغذی کارروائی یا روایتی بیانات کافی نہیں ہیں، بلکہ اس مبینہ کرپشن میں ملوث تمام چھوٹے بڑے عناصر کو فی الفور کیفرِ کردار تک پہنچانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اگر خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں کے بچوں اور آنے والی نسلوں کو بچانا ہے تو کرپشن کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا، بصورت دیگر تاریخ اس مجرمانہ غفلت اور نااہلی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

متعلقہ مضامین

گجرات میں بیرون ملک سے آنے والے شخص پر بھائی کے قتل کا الزام ہے۔ پولیس نے پانچ روز میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔

October 23, 2026

لسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے تصادم میں 12 افراد جاں بحق اور 15 سے زائد زخمی ہوگئے، پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

October 23, 2026

حافظ آباد کے علاقے کولو تارڑ میں زمین کے تنازع پر دو افراد کے قتل کے الزام میں دو بھائیوں اور ان کی والدہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

October 23, 2026

کابل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال میں افغانستان کے لیے ملنے والی 8 ارب ڈالر کی امداد کا 91 فیصد حصہ غائب ہے، جس کی تفصیلات عوامی ریکارڈ میں موجود نہیں۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *