خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کی مد میں اب تک 799 ارب روپے سے زائد کی رقم فراہم کی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے سالانہ بجٹ کو بھی 191 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ان بے پناہ وسائل کے باوجود صوبے میں بدامنی کا راج بدستور قائم ہے۔
صوبے میں دہشت گردی کے واقعات، بھتہ خوری، منشیات کی کھلی فروخت اور منظم جرائم میں کمی واقع نہیں ہو سکی۔ فنڈز کی مسلسل فراہمی اور زمینی حقائق میں اس تضاد نے حکومتی حکمتِ عملی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق سب سے بڑا انتظامی نقص الگ کھاتے کا نہ ہونا ہے۔ یہ رقم دہشت گردی کے خاتمے اور سکیورٹی اداروں کی مخصوص ضروریات کے بجائے سیدھی صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں چلی جاتی ہے۔
عوامی و سیاسی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اتنے بھاری بجٹ کے بعد بھی سکیورٹی فورسز کو جدید ترین وسائل، بلٹ پروف ساز و سامان اور جدید ٹیکنالوجی میسر نہیں، تو یہ اربوں روپے آخر کہاں ٹھکانے لگائے جا رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کرپشن اور فنڈز کے غیر شفاف استعمال کا یہ تسلسل نہ صرف قومی وسائل کا ضیاع ہے بلکہ یہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔