خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بدستور سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اس خطرے کے تدارک کے لیے صرف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں کافی نہیں۔ اس کے لیے صوبائی سطح پر مؤثر حکمرانی اور مضبوط سیاسی ذمہ داری کی اشد ضرورت ہے۔
ماضی کے فوجی آپریشنز (راہِ راست، راہِ نجات اور ضربِ عضب) نے شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ بعد ازاں پیدا ہونے والے انتظامی اور سیاسی خلا نے کالعدم عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔ سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے صوبائی حکومت کی مسلسل شمولیت ضروری ہے۔
صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی پر ناکافی توجہ نے سکیورٹی خلا کو جنم دیا ہے۔ حکومتی وسائل اور انتظامی توجہ کو سیاسی احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ پر مرکوز رکھنے سے صوبے کی سکیورٹی ترجیحات متاثر ہو رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پولیس ایکٹ 2026 پر سکیورٹی تقاضوں کے مطابق نظرثانی کی جائے، اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا جائے اور انہیں خاطر خواہ مالی و تیکنیکی وسائل فراہم کیے جائیں۔
صوبائی قیادت کو کالعدم ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر شدت پسند گروہوں کی دوٹوک مذمت کرنی چاہیے۔ انتہا پسند عناصر کو کسی قسم کی سیاسی یا انتظامی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ مزید برآں، افغان مہاجرین کی واپسی اور غیر مجاز رابطوں سے گریز کی قومی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد لازمی ہے۔
قومی ایکشن پلان پر ضم شدہ اضلاع سمیت پورے صوبے میں بلا تفریق عمل کیا جائے۔ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے۔ طویل مدتی استحکام کے لیے سکیورٹی فورسز، سول انتظامیہ، میڈیا، علما اور عوام کا باہمی اشتراک بنیادی شرط ہے۔