مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شرکت کریں گے۔

October 5, 2026

خودمختاری کے نعروں کے برعکس بیرونی طاقتوں سے مبینہ رابطوں اور ریلیف کی توقع پر سیاسی حلقوں نے پی ٹی آئی کے متضاد مؤقف اور دوہرے معیار پر کڑے سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

صوبہ خیبرپختونخوا میں بدستور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دیرپا امن کے لیے سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی سیاسی اونرشپ اور اداروں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔

October 5, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رات گئے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ تمام نکات اور تحریری وعدوں پر عمل سے انکار کر دیا ہے۔

October 4, 2026

کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھارت جانے کی تیاری کر رہے ہیں، تنظیمی کمان عدنان بلوچ کو سونپ دی گئی۔

October 4, 2026

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی کشیدگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر نئے سوالات اٹھا دیے۔

October 4, 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی: مؤثر حکمرانی اور صوبائی ذمہ داری ناگزیر

صوبہ خیبرپختونخوا میں بدستور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دیرپا امن کے لیے سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی سیاسی اونرشپ اور اداروں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے مضبوط حکمرانی، پولیس کی جدید تربیت اور صوبائی حکومت کی سیاسی اونرشپ لازمی قرار۔

October 5, 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بدستور سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اس خطرے کے تدارک کے لیے صرف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں کافی نہیں۔ اس کے لیے صوبائی سطح پر مؤثر حکمرانی اور مضبوط سیاسی ذمہ داری کی اشد ضرورت ہے۔

ماضی کے فوجی آپریشنز (راہِ راست، راہِ نجات اور ضربِ عضب) نے شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ بعد ازاں پیدا ہونے والے انتظامی اور سیاسی خلا نے کالعدم عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا۔ سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے صوبائی حکومت کی مسلسل شمولیت ضروری ہے۔

صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی پر ناکافی توجہ نے سکیورٹی خلا کو جنم دیا ہے۔ حکومتی وسائل اور انتظامی توجہ کو سیاسی احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ پر مرکوز رکھنے سے صوبے کی سکیورٹی ترجیحات متاثر ہو رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پولیس ایکٹ 2026 پر سکیورٹی تقاضوں کے مطابق نظرثانی کی جائے، اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا جائے اور انہیں خاطر خواہ مالی و تیکنیکی وسائل فراہم کیے جائیں۔

صوبائی قیادت کو کالعدم ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر شدت پسند گروہوں کی دوٹوک مذمت کرنی چاہیے۔ انتہا پسند عناصر کو کسی قسم کی سیاسی یا انتظامی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ مزید برآں، افغان مہاجرین کی واپسی اور غیر مجاز رابطوں سے گریز کی قومی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد لازمی ہے۔

قومی ایکشن پلان پر ضم شدہ اضلاع سمیت پورے صوبے میں بلا تفریق عمل کیا جائے۔ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے۔ طویل مدتی استحکام کے لیے سکیورٹی فورسز، سول انتظامیہ، میڈیا، علما اور عوام کا باہمی اشتراک بنیادی شرط ہے۔

متعلقہ مضامین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شرکت کریں گے۔

October 5, 2026

خودمختاری کے نعروں کے برعکس بیرونی طاقتوں سے مبینہ رابطوں اور ریلیف کی توقع پر سیاسی حلقوں نے پی ٹی آئی کے متضاد مؤقف اور دوہرے معیار پر کڑے سوالات اٹھا دیے۔

October 5, 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رات گئے مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ تمام نکات اور تحریری وعدوں پر عمل سے انکار کر دیا ہے۔

October 4, 2026

کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے بھارت جانے کی تیاری کر رہے ہیں، تنظیمی کمان عدنان بلوچ کو سونپ دی گئی۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *