پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹی ٹی پی کی مبینہ موجودگی کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ دعوے کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کمانڈر امیر معاویہ کاظم کا ایک قریبی ساتھی، جو متعدد حملوں میں ملوث رہا، افغانستان میں مارا گیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈروں کی افغانستان میں موجودگی مسلسل سکیورٹی خطرہ ہے۔ اکتوبر 2025 میں کمانڈر کاظم پر 10 کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا تھا۔
افغان صوبہ کنڑ ٹی ٹی پی سرگرمیوں کے حوالے سے پہلے بھی خبروں میں رہا ہے۔ دسمبر 2024 میں سینئر کمانڈر شاہد عمر باجوڑی سمیت متعدد کمانڈر وہاں مارے جانے کی اطلاعات آئی تھیں۔
پاکستان کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین حملوں کے لیے استعمال کرتی ہے، جسے افغان طالبان حکومت مسترد کرتی ہے۔ جولائی 2026 میں ٹانک چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 15 اہلکار شہید ہوئے تھے، جس کا الزام فوج نے ٹی ٹی پی پر عائد کیا۔ جواب میں پاکستان نے افغانستان میں ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کیں، جن میں افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا۔
کنڑ میں ٹی ٹی پی کی مبینہ موجودگی پاک-افغان تعلقات میں بڑا تنازع بنی ہوئی ہے۔ مسلسل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
دیکھیے: بلوچستان: آپریشن رد الفتنہ 3 کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں، 9 دہشت گرد ہلاک