باجوڑ کے علاقے تحصیل ماموند میں سیوئ بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت نجیب اللہ ولد محمد زیر خان سکنہ زگہ ڈھیرئی کے نام سے ہوئی ہے، جو مرکزی مسلم لیگ کے رکن اور بلدیاتی انتخابات کے امیدوار تھے۔
پولیس حکام کے مطابق دھماکا نجیب اللہ کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
دوسری جانب بعض ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ جاں بحق شخص لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے۔ داعش کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مقتول سیکیورٹی اداروں کے لیے جاسوسی کر رہا تھا، جس بنا پر اسے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم ان دعوؤں کی مرکزی مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے سختی سے تردید کر دی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے ایک صوبائی رہنما نے ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ ایک سیاسی کارکن اور مقامی سطح کے متحرک رہنما تھے اور ان کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مرکزی مسلم لیگ کی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج مکمل تفتیش کے بعد سامنے لائے جائیں گے۔
دیکھیے: حکومت نے وادیٔ تیراہ میں فوجی حکم سے منسوب انخلاء کی خبروں کی تردید کر دی