اسلام آباد: اسلامی فلاحی ریاست کا استحکام محض انتظامی اقدامات کا مرہونِ منت نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس مضبوط نظریاتی ڈھانچے پر مبنی ہے جہاں قیادت کی اطاعت اور ریاستی نظم کی مرکزیت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ حالیہ قومی منظرنامے میں “معرکہِ حق” اور “بنیانٌ مرصوص” جیسی اصطلاحات نے ان اسلامی اصولوں کو زندہ کر دیا ہے جو کسی بھی قوم کو داخلی خلفشار سے بچا کر ایک ناقابلِ تسخیر قوت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
اطاعتِ اولی الامر: ریاستی نظم کی شرعی بنیاد
سورہ النساء کی آیت نمبر 59 میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے واضح ضابطہ بیان فرمایا ہے: “اللہ کی اطاعت کرو، رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی”۔ یہ قرآنی حکم ریاست کو ایک ایسی وحدت بناتا ہے جہاں خالق اور رسول ﷺ کی بندگی کے ساتھ ساتھ “اولی الامر” یعنی وقت کی قیادت کی پیروی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ “معرکہِ حق” دراصل اسی نظریے کی عملی تعبیر ہے کہ جب ریاست کی رٹ کو داخلی فتنوں سے خطرہ ہو، تو قیادت کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ نظمِ ریاست سے انحراف وہ “فتنہ” ہے جو پورے معاشرتی ڈھانچے کو بکھیر دیتا ہے۔
بنیانٌ مرصوص: اتحادِ امت کی فولادی ڈھال
قرآنِ کریم کی سورہ الصف میں اللہ تعالیٰ نے ان مخلصین کی تعریف فرمائی ہے جو اس کی راہ میں “بنیانٌ مرصوص” (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس تشبیہ کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ایک مضبوط عمارت کی اینٹیں ایک دوسرے میں پیوست ہو کر اسے بلندی اور پائیداری عطا کرتی ہیں، اسی طرح ایک باوقار قوم کے افراد اور ادارے ایک دوسرے کی قوت بنتے ہیں۔ معرکہِ حق کے دوران جب پاکستانی قوم اور ریاستی ادارے ایک صف میں کھڑے ہوئے، تو دشمن کے تمام ناپاک عزائم اور انتشار پھیلانے والی قوتیں خود بخود ناکام و نامراد ہو گئیں۔
انتشار کے خلاف نبوی تعلیمات اور اجتماعی نظم
نبی کریم ﷺ نے جماعت سے وابستگی کو ایمان کا جزو قرار دیتے ہوئے خبردار فرمایا کہ جو شخص اطاعت کے دائرے سے نکل گیا اور جماعت سے الگ ہو کر مرا، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ یہ حدیثِ مبارکہ اس خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے جو بغاوت اور خود سری سے پیدا ہوتی ہے۔ معرکہِ حق نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستانی قوم نے جاہلیت کے ان فرسودہ راستوں اور بغاوت کے فتنوں کو رد کر کے “جماعت” یعنی قومی وحدت کے راستے کو اپنایا ہے، جو عین اسلامی تعلیمات کے مطابق فلاح کا راستہ ہے۔
امن و استحکام: یکجہتی کی برکات
حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ “معرکہِ حق – بنیانٌ مرصوص” اسی یکجہتی کی جیتی جاگتی مثال بن کر ابھرا ہے۔ جب پوری قوم نے یک زبان ہو کر انتہاپسندی اور فساد کے خلاف آواز بلند کی، تو اس سے نہ صرف ملک کا داخلی امن بحال ہوا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہوا۔ ریاست اور عوام کا یہ مضبوط رشتہ وہ فولادی ڈھال ہے جو ملک کو ہائبرڈ وارفیئر اور فکری پراپیگنڈے جیسے جدید خطرات سے محفوظ رکھنے کی ضامن ہے۔
ماہرین کے مطابق آج پاکستان جس منزل کی جانب گامزن ہے، اس کا راستہ اسی “بنیانٌ مرصوص” سے ہو کر گزرتا ہے۔ اطاعتِ اولی الامر اور اجتماعی نظم کے یہ اصول ہی ریاست کو داخلی فتنوں سے بچا کر پائیدار امن کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔