برطانوی ہائی کمشنر جین میرئٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔ اس اہم نشست میں دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی و عالمی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی، تاہم ملک کے موجودہ حساس سیاسی تناظر میں اس ملاقات کو ماہرین اور سیاسی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوران ملاقات پاکستان اور برطانیہ کے مابین دیرینہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور زیرِ بحث آئے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی بھی موجود تھے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب محمود خان اچکزئی اہم قومی سکیورٹی اجلاسوں، جن کی صدارت وزیراعظم کرتے ہیں، میں بطور اپوزیشن لیڈر شرکت کے لیے وقت نہیں نکال پاتے لیکن دوسری جانب غیر ملکی سفارتکاروں کے لیے ان کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں۔ اس طرزِ عمل کو ایک بڑے تضاد سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ ملاقاتیں کسی نئے ‘رجیم چینج آپریشن’ یا کسی مخصوص ‘گیم پلان’ کا پیش خیمہ تو نہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق سفارتی آداب کا تقاضا ہے کہ ریاست سے متعلقہ معاملات میں رابطہ منتخب حکومت کے ذریعے ہو اور ایسے روابط میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں محمود خان اچکزئی کا افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ نرم گوشہ رکھنا اور پاکستان کی پالیسیوں پر مسلسل سخت تنقید، ایسے وقت میں جب پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متحرک ہیں، کئی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ان ملاقاتوں کو محض اتفاق قرار دینا مشکل نظر آتا ہے اور یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں کسی گہرے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔