...
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ خصوصی رعایت تین ماہ کیلئے دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل رہے گی، اور اس اقدام سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔

March 29, 2026

جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

March 29, 2026

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان کے لیے ادویات اور طبی سہولیات کا سب سے قابلِ اعتماد، کم خرچ اور آسان ذریعہ رہا ہے۔ سرحدی قربت، قیمتوں میں مناسب توازن اور رسائی کی سہولت کے باعث پاکستانی ادویات افغان مارکیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہی ہیں۔
ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان واقعی اپنے طبی معیار کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی صف بندی کے بجائے شفاف جانچ، علاقائی اشتراک اور عملی زمینی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا، تاکہ صحت کا شعبہ عوام کے لیے سہولت بنے، دباؤ کا ذریعہ نہیں۔

December 23, 2025

کابل کی جانب سے بھارت کے ساتھ صحت کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون ایک سوچا سمجھا جیوپولیٹیکل قدم دکھائی دیتا ہے، جسے پاکستانی ادویات کے معیار کے حوالے سے کسی مستند، سائنسی یا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جانچ کے بغیر اختیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ شفاف تیسرے فریق کی تصدیق کے بغیر کیا گیا، جس کے نتیجے میں افغانستان کے صحت عامہ کے نظام کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان کے لیے ادویات اور طبی سہولیات کا سب سے قابلِ اعتماد، کم خرچ اور آسان ذریعہ رہا ہے۔ سرحدی قربت، قیمتوں میں مناسب توازن اور رسائی کی سہولت کے باعث پاکستانی ادویات افغان مارکیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ پالیسی فیصلوں کے تحت اس سپلائی چین کو سیاسی بنیادوں پر محدود کرنا مریضوں کے لیے بہتری کے بجائے نقصان کا سبب بنتا نظر آ رہا ہے۔

ادویات کی درآمد میں اچانک تبدیلی کے بعد افغان منڈیوں میں دواؤں کی قلت اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے زمینی حقائق اور اعلان کردہ امدادی پیکجز کے درمیان واضح خلا کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں دستیابی اور استطاعت دونوں بڑے مسائل بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صحت عامہ کی حکمرانی کو محض سفارتی اشاروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پریس کانفرنسز یا سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات کسی بھی صورت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فارماکولوجیکل ٹیسٹنگ، ریگولیٹری عمل اور شفاف جانچ کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ صحت کے شعبے میں فیصلے سائنسی شواہد، مستند ڈیٹا اور غیر جانبدارانہ جائزے کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے واضح ہے کہ صحت عامہ کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ حکام کے مطابق پائیدار اور مؤثر افغان ہیلتھ سسٹم کے لیے شواہد پر مبنی ریگولیشن، متنوع سپلائی ذرائع اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے، نہ کہ اچانک تجارتی تعطل جو مریضوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان واقعی اپنے طبی معیار کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی صف بندی کے بجائے شفاف جانچ، علاقائی اشتراک اور عملی زمینی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا، تاکہ صحت کا شعبہ عوام کے لیے سہولت بنے، دباؤ کا ذریعہ نہیں۔

متعلقہ مضامین

وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ خصوصی رعایت تین ماہ کیلئے دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل رہے گی، اور اس اقدام سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔

March 29, 2026

جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

March 29, 2026

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.