سی ڈی اے نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی یادگاروں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ عالمی روایت ہے۔ دنیا میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس (امریکا)، ماربل آرچ (لندن) اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرنو تعمیر جیسے منصوبے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

February 5, 2026

امریکہ کی جانب سے منعقدہ اہم معدنیات کانفرنس میں پاکستان کو کلیدی شراکت دار کے طور پر شامل کیا گیا، جو واشنگٹن کے اس اعتماد کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اہم معدنیات کی سپلائی چین میں ایک معتبر اور قابلِ بھروسہ ملک ہے

February 5, 2026

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد کمی کے بعد برینٹ کروڈ 68.02 اور ڈبلیو ٹی آئی 63.80 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہیں، امریکہ اور ایران کے ممکنہ مذاکرات کی خبروں کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی

February 5, 2026

ازبک صدر شوکت مرزایوف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں صدر اور وزیراعظم نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت، توانائی، دفاعی تعاون، تعلیم اور علاقائی رابطوں میں جامع پیش رفت متوقع ہے

February 5, 2026

بلوچستان میں پانچ روزہ تعطل کے بعد ٹرین سروسز بحال کر دی گئیں لیکن کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں موبائل ڈیٹا سروسز چھٹے روز بھی معطل ہیں

February 5, 2026

پاکستان نے سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے ساتھ ہی تنظیم کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں اور شہری ہلاکتوں کی نشاندہی کی گئی ہے

February 5, 2026

ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان کے لیے ادویات اور طبی سہولیات کا سب سے قابلِ اعتماد، کم خرچ اور آسان ذریعہ رہا ہے۔ سرحدی قربت، قیمتوں میں مناسب توازن اور رسائی کی سہولت کے باعث پاکستانی ادویات افغان مارکیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہی ہیں۔
ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان واقعی اپنے طبی معیار کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی صف بندی کے بجائے شفاف جانچ، علاقائی اشتراک اور عملی زمینی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا، تاکہ صحت کا شعبہ عوام کے لیے سہولت بنے، دباؤ کا ذریعہ نہیں۔

December 23, 2025

کابل کی جانب سے بھارت کے ساتھ صحت کے شعبے میں بڑھتا ہوا تعاون ایک سوچا سمجھا جیوپولیٹیکل قدم دکھائی دیتا ہے، جسے پاکستانی ادویات کے معیار کے حوالے سے کسی مستند، سائنسی یا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جانچ کے بغیر اختیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ شفاف تیسرے فریق کی تصدیق کے بغیر کیا گیا، جس کے نتیجے میں افغانستان کے صحت عامہ کے نظام کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان کے لیے ادویات اور طبی سہولیات کا سب سے قابلِ اعتماد، کم خرچ اور آسان ذریعہ رہا ہے۔ سرحدی قربت، قیمتوں میں مناسب توازن اور رسائی کی سہولت کے باعث پاکستانی ادویات افغان مارکیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ پالیسی فیصلوں کے تحت اس سپلائی چین کو سیاسی بنیادوں پر محدود کرنا مریضوں کے لیے بہتری کے بجائے نقصان کا سبب بنتا نظر آ رہا ہے۔

ادویات کی درآمد میں اچانک تبدیلی کے بعد افغان منڈیوں میں دواؤں کی قلت اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے زمینی حقائق اور اعلان کردہ امدادی پیکجز کے درمیان واضح خلا کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں دستیابی اور استطاعت دونوں بڑے مسائل بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صحت عامہ کی حکمرانی کو محض سفارتی اشاروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پریس کانفرنسز یا سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات کسی بھی صورت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فارماکولوجیکل ٹیسٹنگ، ریگولیٹری عمل اور شفاف جانچ کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ صحت کے شعبے میں فیصلے سائنسی شواہد، مستند ڈیٹا اور غیر جانبدارانہ جائزے کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے واضح ہے کہ صحت عامہ کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ حکام کے مطابق پائیدار اور مؤثر افغان ہیلتھ سسٹم کے لیے شواہد پر مبنی ریگولیشن، متنوع سپلائی ذرائع اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے، نہ کہ اچانک تجارتی تعطل جو مریضوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان واقعی اپنے طبی معیار کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے سیاسی صف بندی کے بجائے شفاف جانچ، علاقائی اشتراک اور عملی زمینی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا، تاکہ صحت کا شعبہ عوام کے لیے سہولت بنے، دباؤ کا ذریعہ نہیں۔

متعلقہ مضامین

سی ڈی اے نے نشاندہی کی کہ ترقیاتی ضروریات کے تحت تاریخی یادگاروں کی منتقلی ایک تسلیم شدہ عالمی روایت ہے۔ دنیا میں کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس (امریکا)، ماربل آرچ (لندن) اور لندن برج کی بیرونِ ملک ازسرنو تعمیر جیسے منصوبے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

February 5, 2026

امریکہ کی جانب سے منعقدہ اہم معدنیات کانفرنس میں پاکستان کو کلیدی شراکت دار کے طور پر شامل کیا گیا، جو واشنگٹن کے اس اعتماد کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اہم معدنیات کی سپلائی چین میں ایک معتبر اور قابلِ بھروسہ ملک ہے

February 5, 2026

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2 فیصد کمی کے بعد برینٹ کروڈ 68.02 اور ڈبلیو ٹی آئی 63.80 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہیں، امریکہ اور ایران کے ممکنہ مذاکرات کی خبروں کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی

February 5, 2026

ازبک صدر شوکت مرزایوف دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں صدر اور وزیراعظم نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت، توانائی، دفاعی تعاون، تعلیم اور علاقائی رابطوں میں جامع پیش رفت متوقع ہے

February 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *