پاکستان نے ہمیشہ امن اور مکالمے کی حمایت کی ہے، جبکہ امجد طہٰ جیسے کرائے کے پروپیگنڈا کرنے والے صرف انارکی اور خون خرابے کے علمبردار ہیں تاکہ اپنے آقاؤں کے سیاسی مقاصد پورے کر سکیں۔
سیاسی مخالفین کا کہنا تھا کہ مظفرآباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے زیادہ تو کرسیاں ترتیب میں نظر آئیں۔ سینئر صحافیوں نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کے سرکاری ہیلی کاپٹر پر آنے کے باوجود جلسہ گاہ کی نصف کے قریب نشستیں خالی پڑی رہیں۔
بھارتی سیلز نہ صرف خارجہ محاذ پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اندرونِ ملک بھی ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی مشکوک مہمات سے ہوشیار رہیں اور دشمن کے ڈیجیٹل آلہ کار بننے سے گریز کریں۔
افغانستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے سفارتی مفادات، نظریاتی بیانیے اور معاشی ضروریات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے، کیونکہ موجودہ حالات میں مستحکم علاقائی تعلقات اس کی بقا کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے موجودہ بحران کے دوران کئی بار پاکستان کے مثبت کردار کی کھل کر تعریف کی ہے اور انہوں نے حالیہ بیانات میں اعتراف کیا کہ پاکستان کی کوششوں کی بدولت خطہ ایک بڑی جنگ سے محفوظ رہا۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی وزن استعمال کیا ہے۔
اس وقت امریکہ کے کلیدی سکیورٹی اداروں کی باگ ڈور تلسی گبارڈ اور کاش پٹیل جیسے بھارتی نژاد حکام کے ہاتھوں میں ہے۔ ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ان دونوں اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں سکیورٹی کے نظام میں بڑے شگاف نمودار ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمہ اور شہر یار کے درمیان 746 فون کالز کا ریکارڈ موصول ہوا ہے، اور ملزمہ کے نزدیک یہ بچے اس کی دوسری شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔
جلسہ گاہ کی صورتحال یہ تھی کہ 300 سے زائد کرسیاں مسلسل خالی پڑی رہیں، جس نے تحریک انصاف کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا کہ وہ اب بھی خیبر پختونخوا کی سرحدوں سے باہر عوامی متحرک کرنے کی وہی سکت رکھتی ہے جو ماضی میں اس کا خاصہ رہی ہے۔
جو گروہ اپنے عظیم استاد اور روحانی پیشوا کو محض سیاسی اختلاف پر سنگین دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کی تذلیل کر سکتا ہے، وہ عام انسانوں اور دیگر مخالفین کے ساتھ کس حد تک جا سکتا ہے؟