انہوں نے انکشاف کیا کہ ‘فتنہ الہندوستان’ کے تحت بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کے تانے بانے براہِ راست بھارت سے ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط دیوار ہے اور افواجِ پاکستان کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

April 26, 2026

قانونی جانچ پڑتال کے دوران شہریت کے عمل میں تاخیر پر قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے ملزم کا انتہاپسندی کی طرف راغب ہونا اسی نظریاتی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

April 26, 2026

معرکہِ حق کی یاد میں منائی جانے والی یہ تقریبات حب الوطنی کے جذبے کو جلا بخش رہی ہیں اور اس عزم کا اعادہ کر رہی ہیں کہ ملکی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے پوری قوم متحد ہے اور کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

April 26, 2026

سیاسی مخالفین کا کہنا تھا کہ مظفرآباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے زیادہ تو کرسیاں ترتیب میں نظر آئیں۔ سینئر صحافیوں نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کے سرکاری ہیلی کاپٹر پر آنے کے باوجود جلسہ گاہ کی نصف کے قریب نشستیں خالی پڑی رہیں۔

April 26, 2026

ایرانی وفد کے تہران واپس جانے والے نمائندے بھی اہم امور پر مشاورت کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

April 26, 2026

ٹرمپ کی نظر میں پاکستان کا قد بڑھ گیا؛ ایران کے ساتھ جنگ بندی اور ثالثی میں اسلام آباد کی قیادت کو ایک بار پھر سراہا

صدر ٹرمپ نے موجودہ بحران کے دوران کئی بار پاکستان کے مثبت کردار کی کھل کر تعریف کی ہے اور انہوں نے حالیہ بیانات میں اعتراف کیا کہ پاکستان کی کوششوں کی بدولت خطہ ایک بڑی جنگ سے محفوظ رہا۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی وزن استعمال کیا ہے۔
ٹرمپ پاکستان کا فین

پاکستان کی اس بڑھتی ہوئی اہمیت اور ٹرمپ کے تعریفی کلمات نے عالمی سطح پر اسلام آباد کے سیاسی و عسکری وقار میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

April 26, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اور جنگ کی صورتحال میں پاکستان ایک مرکزی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی براہِ راست اپیل پر نہ صرف ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کی ہے بلکہ اب وہ پاکستان کو ایک انتہائی اہم تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

امریکی جریدے ‘دی ہل’ اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کارکردگی سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جیتنے والوں کو پسند کرتے ہیں اور وہ پاکستان کی حالیہ کامیابیوں سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں۔

رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نجی محفلوں میں پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستانی کون ہیں، یہ ایک چھوٹا ملک ہے لیکن انہوں نے بھارتیوں کو عبرتناک شکست دی ہے۔ ان کے یہ کلمات پاکستان کی دفاعی مضبوطی اور علاقائی اہمیت کے اعتراف کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے موجودہ بحران کے دوران کئی بار پاکستان کے مثبت کردار کی کھل کر تعریف کی ہے اور انہوں نے حالیہ بیانات میں اعتراف کیا کہ پاکستان کی کوششوں کی بدولت خطہ ایک بڑی جنگ سے محفوظ رہا۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی وزن استعمال کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی قیادت نے جس مہارت سے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے راستہ ہموار کیا، وہ ٹرمپ کی نظر میں قابلِ ستائش ہے۔ پاکستان کی اس بڑھتی ہوئی اہمیت اور ٹرمپ کے تعریفی کلمات نے عالمی سطح پر اسلام آباد کے سیاسی و عسکری وقار میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ کے خطرے کو ٹالا ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز بھی کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بار بار دیے گئے تعریفی بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اب جنوبی ایشیا میں پاکستان کو اپنا سب سے قابلِ بھروسہ اتحادی تصور کر رہے ہیں۔

دیکھئیے:بھارتی نژاد سکیورٹی حکام ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے خطرہ بن گئے، فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

انہوں نے انکشاف کیا کہ ‘فتنہ الہندوستان’ کے تحت بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کے تانے بانے براہِ راست بھارت سے ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط دیوار ہے اور افواجِ پاکستان کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

April 26, 2026

قانونی جانچ پڑتال کے دوران شہریت کے عمل میں تاخیر پر قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے ملزم کا انتہاپسندی کی طرف راغب ہونا اسی نظریاتی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

April 26, 2026

معرکہِ حق کی یاد میں منائی جانے والی یہ تقریبات حب الوطنی کے جذبے کو جلا بخش رہی ہیں اور اس عزم کا اعادہ کر رہی ہیں کہ ملکی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے پوری قوم متحد ہے اور کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

April 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *