ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر جانچ پڑتال ناگزیر ہے تاکہ پناہ کے نظام کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے اور حقیقی متاثرین کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔
پاکستان میں جب بھی کسی بڑے ادارے میں احتساب یا اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو اکثر اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے اصل حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اس کے بنیادی حقِ دفاع کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”
سیکیورٹی مبصرین کے مطابق نیمروز اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی گروپوں اور طالبان فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔