یاد رہے کہ زلمے خلیل راز سمیت مختلف شخصیات کی جانب سے اس ڈائیلاگ کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جا رہا تھا جسے انتظامیہ اور حکام نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
پاکستان کی قربانیاں ایک ایسے بگڑے ہوئے عالمی نظام کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں دہشتگردی کو سیاسی بنایا جاتا ہے، اسلاموفوبیا کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور قبضوں کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔
امریکا سیاسی، عسکری اور اقتصادی ہر بڑے فیصلے میں براہِ راست مداخلت کرتا رہا۔ آئین کی خلاف ورزی کی، انتخابات کے نتائج خود طے کیے، اور بالآخر افغان حکومت یا دیگر سیاسی دھڑوں کو شامل کیے بغیر سب کچھ طالبان کے حوالے کر دیا۔
پچھلے دنوں اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے پاکستان پہ الزام عائد کیا کہ پاکستان طالبان مخالف عناصر کو پناہ دے رہا ہے جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کردیا۔۔
یہ وقت بھی معنی خیز تھا کیونکہ ان بیانات سے قبل امریکہ کے سابق ایلچی زلمے خلیلزاد نے سوشل میڈیا پر یہ الزام لگایا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس کانفرنس کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں
ترجمانِ پاک فوج کا کہنا تھا فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے نہ تو تحریک انصاف کا ذکر کیا اور نہ ہی کسی کو انٹرویو دیا۔ انکا کہنا تھا سہیل وڑائچ ایک سینئر صحافی ہیں انہیں اس طرح کی منفی و منگھڑت باتیں نہیں پھیلانی چاہیے تھی
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ سطح پر قریبی رابطے جاری رکھے جائیں گے اور کثیرالجہتی فورمز پر بھی بھرپور تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔
ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق چینی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران پاک - چین وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد اسلام آباد میں ہوگا۔ جہاں چینی وزیر خارجہ مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کریں گے
جنرل شمشاد نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے ازبک قیادت تک ان کا سلام پہنچایا اور یہ پیغام دیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں مل جل کر کام کریں گے۔
یہ سہ فریقی اجلاس اس وقت منعقد ہوا ہے جب افغانستان اپنی معیشت کو دوبارہ استحکام دینے کی کوششوں میں مصروف ہے اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔
افغان وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہا کہ امارتِ اسلامیہ کسی کو بھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی نیز افغان ریاست چاہتی ہے کہ خطے کے ممالک مداخلت کے بجائے برابری کی سطح کے تعلقات استوار کرے
انیس اگست کو کابل میں افغانستان کے یومِ آزادی کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا افغان حکومت نے ایک بہترین اور مستحکم نظام قائم کر لیا ہے لہذا ہمسایہ ممالک افغانستان سے متعلق ناپاک عزاِئم دیکھنا بند کریں
جرمنی نے اُن 211 افغان شہریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جنہیں جرمنی میں دوبار رہائش پذیر ہونے کا حق حاصل تھا، لیکن پاکستان نے اپنی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے انہیں افغانستان بھیج دیا
دراصل شرپسند عناصر اس قسم کی سازشیں رچا کر رواں ماہ کے آخر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کا افغانستان کے افغنستان کے دورے کو ناکام بنانے کی بھی ایک کوشش ہے
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حادثات کو روکنے کے لیے سخت ٹریفک قوانین، ڈرائیوروں کی تربیت اور گاڑیوں کی تکنیکی جانچ ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر ایسے سانحات انسانی جانوں کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے رہیں گے۔
راشد منہاس کی اس عظیم قربانی پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا، ان کی یہ قربانی آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں جوش و جذبے کی مثال ہے۔
مصر اور قطر غزہ جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے تھے، ان دونوں ممالک کی جانب سے حالیہ منصوبہ موصول ہونے کے بعد حماس کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت "آپریشن سندور" کے بعد تیزی سے گر چکی ہے اور ان کی حکومت اب عوامی تائید کے بجائے دھاندلی اور ادارہ جاتی کنٹرول کے ذریعے قائم ہے
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے جب کہ معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔
ترقی یافتہ ممالک (امریکہ، یورپ، چین وغیرہ) صنعتی انقلاب سے اب تک دنیا کے کل کاربن اخراج کا 70% سے زائد کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان کا حصہ صرف 1% سے بھی کم ہے، لیکن اثرات سب سے زیادہ ہم جھیل رہے ہیں۔
اب تک 43 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 33 مرد، 2 خواتین اور 8 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 2 خواتین اور1 بچہ شامل ہے۔ پی ڈی ایم اے
پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ تصادم میں راکٹس اور میزائلوں کے کامیاب استعمال کے بعد اب ایک نئی ’آرمی راکٹ فورس کمانڈ‘ کی تشکیل کا اعلان کردیا ہے۔ ماہرین نے چینی طرز پر بنائی گئی اس فورس کو ہنگامی صورتحال کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
اس عنوان پر اگر ایک عمیق نظر ڈالی جائے تو انسانی ذہن یہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہیکہ آخر وہ کونسی ایسی جدوجہد تھی جسکو حاصل کرلینے پر14 اگست کو تاریخی دن قرار دیا گیا
اس جدو جہد کے نتیجے میں یہاں پیار، محبت، یگانگت کی کونپلیں بھی پھوٹیں۔ کبھی کوئی لسانی یا علاقائی تعصب دیکھنے کو نہ ملا۔ میرے لوگ ۔۔میرے باسی ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔
مذکورہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 15 روز کے اندر فوجی اہلکاروں کے قبائلی اضلاع سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا
یہ دن اس بیان کی تجدیدِ عہد ہے جو بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے گیارہ اگست کو تاریخی خطاب کیا تھا۔ آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا تھا مذہب و مسلک کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا
پاکستان اور اتحادیوں کی فعال سفارت کاری کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے توسیعی عزائم ناکام ہو گئے اور اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی۔