وزارت کے ترجمان عبدالمطلب حقانی کے مطابق پاکستان سے 13 ہزار 834، ایران سے 823 اور ترکیہ سے 19 خاندان واپس آئے ہیں، جبکہ 32 ہزار 295 افراد کو جبری طور پر ملک بدر کیا گیا ہے۔
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے 88 ویں یومِ وفات پر صدر اور وزیراعظم نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ترقی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے فکرِ اقبال کو عملی طور پر اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج اقبالؒ کی روح کو تسکین ہو رہی ہوگی کہ جس پودے کی آبیاری انہوں نے اپنے فکر و فلسفے سے کی تھی، وہ اب ایک تناور درخت بن کر دنیا کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ نیا روپ اس بات کی نوید ہے کہ اب سورج طلوع ہو چکا ہے، اور اندھیرے اب مستقل طور پر چھٹنے والے ہیں۔
پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی ‘اسٹریٹجک ڈیفنس معاہدہ’ طے پانے کا امکان؛ پاکستانی افواج کی قطری فوجی اڈوں پر تعیناتی اور قطر کی جانب سے 2 ارب ڈالر کی مالی امداد متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر یورپی کونسل انتونیو کوسٹا کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی ایران نے مذاکرات کے انعقاد پر شکوک کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد ازاں اس کا وفد اچانک مذاکرات میں شریک ہو گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال بھی اسی طرز کی غیر یقینی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت رسول محمد عرف حماس کے نام سے ہوئی ہے، جو یار محمد کا بیٹا اور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع احمد آباد کے گاؤں خواجہ رخیلہ کا رہائشی تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کو جوہری خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر اس معاہدے کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ یہ امریکا کے لیے باعثِ شرمندگی تھا۔