جس دور میں فکری انتشار کی آندھیاں پرانے بت کدوں کو زمین بوس کر رہی ہوں اور دنیا کے سیاسی نقشے پر طاقت کے توازن کا ترازہ بکھر رہا ہو، وہاں پاکستان کا “مرکزِ ثبات” بن کر ابھرنا محض اتفاق نہیں ، بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے برسوں پہلے دیکھا تھا۔ آج جب ہم شاعرِ مشرق کا یومِ وفات منا رہے ہیں، تو یہ صرف ایک تقویمی یادگار نہیں، بلکہ ایک قومی احتساب کا لمحہ ہے۔ اقبالؒ نے جس ’مردِ مومن‘ اور جس ’بنیان المرصوص‘ کا تصور پیش کیا تھا، کیا آج کا پاکستان اس کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے؟ افق پر ابھرتے ہوئے تازہ واقعات تو یہی گواہی دے رہے ہیں کہ کٹھن سفر کے بعد اب منزل کی لو نظر آنے لگی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب باطل اپنی پوری قوت کے ساتھ حق کو مٹانے کا قصد کرتا ہے، تو قدرت کسی نہ کسی خطے کو حق کا علمبردار بنا دیتی ہے۔ مئی 2025ء کا وہ معرکہ، جسے تاریخ “آپریشن بنیان المرصوص” کے نام سے یاد رکھے گی، صرف ایک فوجی جواب نہیں تھا بلکہ یہ اس خودداری کا اعلان تھا جس کا درس اقبالؒ نے “خودی” کے عنوان سے دیا تھا۔ جب پڑوسی ملک نے جارحیت کے ذریعے پاکستان کی سالمیت کو للکارا، تو شاہینوں کی جھپٹ دانتوں میں انگلیاں دبائے سارے عالم نے دیکھی اور بھارت نے بہت شدت سے محسوس کی۔ جب بھارت کا جدید ترین دفاعی نظام ریت کی دیوار کی طرح ڈھے گیا تو دنیا نے سمجھا کہ جنگ محض ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جا سکتی، اس کے لئے جذبہ اور ایمان ضروری ہے ۔
اس ٹریلر نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اب دفاعی مصلحتوں کا اسیر نہیں، بلکہ اپنی سرحدوں کی حرمت پر پہرہ دینے والا ایک آہنی قلعہ ہے، جس کے ساتھ الجھنے کا متحمل بھارت صرف فلموں کی حد تک ہو سکتا ہے، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اگر آج کی بات کی جائے تو عالمی سیاست میں پاکستان کا کردار ایک امن پسند طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جو کہ اقبالؒ کے اس شعر کی عملی تفسیر معلوم ہوتا ہے:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
حالیہ امریکہ-ایران کشیدگی کے دوران جب پوری دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی اور مشرقِ وسطیٰ شعلوں کی زد میں تھا، پاکستان نے ایک ایسی سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا جس نے عالمی مبصرین کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ عالمی اخبارات کی سرخیوں میں گونجتا پاکستان کا نام، بارود اور لہو میں ڈوبی سسکتی انسانیت کے لیے امید کی وہ کرن بنا جس نے ‘جنگِ عظیم سوم’ کا رخ موڑ دیا۔ جب دنیا ہولناک تباہی کے دہانے پر کھڑی مایوس ہو چکی تھی، تب ارضِ پاک نے اپنی موثر حکمت عملی سے دنیا کو سکھ کا وہ لمحہ دیا جس کے لئے سب دعا گو اور منتظر تھے۔
اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے نمائندوں کو ایک میز پر بٹھا کر جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ اس عالمی اعتماد کی سند ہے جو پاکستان نے اپنی غیر جانبدارانہ اور اصولی پالیسیوں سے حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے پاکستان کو “امن کا سفیر” تسلیم کیا ہے۔ جب دنیا کے بڑے ممالک کے ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کے لیے پاکستانی ہوائی اڈوں کو سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھ کر یہاں پارک کیا، تو یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ افراتفری کے اس دور میں بھی پاکستان ایک “جزیرہِ امن” ہے۔
اقتصادی محاذ پر گوادر کی بڑھتی ہوئی چہل پہل اور آبنائے ہرمز میں تنازعات کے باعث عالمی تجارتی بحری جہازوں کا رخ پاکستان کی بندرگاہوں کی طرف مڑنا اس بات کی علامت ہے کہ قدرت اس خطے کو وہ مرکزی حیثیت عطا کر رہی ہے جس کا خواب اقبالؒ نے دیکھا تھا۔ وہ گوادر جو کبھی خواب لگتا تھا، آج عالمی تجارت کا دھڑکتا ہوا دل بن چکا ہے۔ اس معاشی استحکام اور سفارتی وقار کا اثر آج سمندر پار پاکستانیوں کی آنکھوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کے لیے پاکستانی پاسپورٹ اب محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ فخر اور شناخت کی علامت بن چکا ہے۔
بین المسلمین اتحاد کے حوالے سے پاکستان نے “امتِ واحدہ” کے تصور کو جس طرح آگے بڑھایا ہے، اس نے مسلم دنیا میں پاکستان کو ایک بڑے بھائی اور قائد کا درجہ دے دیا ہے۔ تمام ہمسایہ اور اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی نئی جہتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم اب تزویراتی تنہائی سے نکل کر علاقائی استحکام کے ضامن بن چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کا پاکستان پر اعتماد اور ہماری بات کو وزن دینا اس نئے پاکستان کی عکاسی ہے جو اقبالؒ کے خوابوں کا امین ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم تاریخ کے ایک سنہری دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اقبالؒ نے جس امت کے لیے “نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر” تک ایک ہونے کی دعا کی تھی، پاکستان آج اس اتحاد کا مرکز و محور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن یہ ابھی سفر کی شروعات ہے، منزل ابھی بہت دورہے۔ ہمیں اپنی اس شجاعت، صداقت اور امانت کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ رہتی دنیا تک پاکستان کا نام امن اور انصاف کے استعارے کے طور پر زندہ رہے۔
بقول حکیم الامت:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
چمن اور بھی، آشیاں اور بھی ہیں
آج اقبالؒ کی روح کو تسکین ہو رہی ہوگی کہ جس پودے کی آبیاری انہوں نے اپنے فکر و فلسفے سے کی تھی، وہ اب ایک تناور درخت بن کر دنیا کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کا یہ نیا روپ اس بات کی نوید ہے کہ اب سورج طلوع ہو چکا ہے، اور اندھیرے اب مستقل طور پر چھٹنے والے ہیں۔
دیکھئیے:قبول دعاؤں جیسا پاکستان