ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اور یورپی کونسل کے صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بحران کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے
اگر ایران نے فوجی آپریشن کے بعد بھی آبنائے ہرمز بند رکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کیلئے نہایت اہم راستہ ہے۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ 24 دن کا تھا جو اب بڑھ کر تقریباً چار ہفتوں تک پہنچ چکا ہے، جو ایک مستحکم سپلائی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
امریکا ایران کے ساتھ ایک “نئی اور زیادہ معقول قیادت” کے تحت سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، تاہم اگر معاہدہ جلد طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکا سخت کارروائی پر مجبور ہوگا۔
سرینگر میں سخت پابندیوں کے باوجود آسیہ اندرابی کی رہائی کے لیے احتجاج؛ لاہور میں بھی حریت رہنما کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف خواتین کا بڑا مظاہرہ