کابل: نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان گورنر کے دفتر پر راکٹ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو طالبان اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
این آر ایف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ حملہ 8 اپریل 2026 کو فیض آباد شہر میں واقع گورنر آفس پر کیا گیا، جسے طالبان انتظامیہ کا اہم سرکاری مرکز قرار دیا جاتا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ حملے میں گورنر آفس کو نشانہ بنایا گیا جہاں موجود طالبان اہلکار زد میں آئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیض آباد بدخشاں کا مرکزی شہر ہے جہاں سیکیورٹی کی صورتحال ماضی میں بھی کشیدہ رہی ہے اور حکومتی تنصیبات پر حملوں کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس واقعے کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، تاہم این آر ایف نے اسے اپنی کارروائی قرار دیتے ہوئے اسے طالبان کے خلاف مزاحمتی مہم کا حصہ بتایا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد مختلف مزاحمتی گروہوں کی جانب سے وقفے وقفے سے حملوں کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، خاص طور پر شمالی صوبوں میں سیکیورٹی صورتحال غیر مستحکم رہی ہے۔
دیکھئیے:ماننا ہو گا کہ پاکستان نے وہ کیا جو باقی نہیں کر سکے: عمر عبداللہ