...
بھارت میں ٹرمپ کے بیانات پر شدید ردعمل کے بعد امریکی سفیر سرجیو گور بحران کم کرنے اور بھارت کو امریکہ کا قابل اعتماد اتحادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پیوٹن کی مقبولیت بھارت میں مسلسل بڑھتی جا رہی ہے

January 14, 2026

گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔

January 14, 2026

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس لائن ٹانک کا دورہ کرتے ہوئے شہدائے پولیس کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس دہشت گردی کے خلاف بہادری سے لڑ رہی ہے

January 14, 2026

حکومتِ پاکستان نے اعلیٰ سطح پر سفارتی تبادلوں اور نئی تقرریوں کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کابل، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور کیوبا سمیت اہم دارالحکومتوں میں نئے سفیروں اور ہائی کمشنر کی تعیناتی کی گئی ہے

January 14, 2026

برطانوی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ابو زبیدہ کو دورانِ حراست 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، شدید مار پیٹ کی گئی، اور 11 دن تک تابوت نما تنگ ڈبے میں بند رکھا گیا۔ سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔

January 14, 2026

افغان خارجہ پالیسی کا محور معیشت ہے؛ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی

یہ سہ فریقی اجلاس اس وقت منعقد ہوا ہے جب افغانستان اپنی معیشت کو دوبارہ استحکام دینے کی کوششوں میں مصروف ہے اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔
امیر خان متقی

کابل میں افغانستان، چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا سہ فریقی اجلاس؛ سیاسی و اقتصادی تعاون پر زور

August 20, 2025

کابل میں افغانستان، چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے مابین سہ فریقی مذاکرات کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا اور ماضی کے اجلاسوں میں طے پانے والے فیصلوں پر نظرثانی بھی کی گئی۔


افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے اجلاس کے دوران اپنی گفتگو میں کہا کہ خطے میں مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگر تینوں ممالک باہمی اعتماد اور عملی اقدامات پر توجہ دیں تو ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنی خارجہ پالیسی کا محور معیشت کو قرار دیا ہے اور یہی کوشش کی جا رہی ہے کہ افغانستان کو محض سلامتی کے چیلنجز والے ملک کے بجائے ایک ایسے مرکز میں تبدیل کیا جائے جو خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کا سنگم ہو۔


انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان، چین اور پاکستان اقتصادی اعتبار سے بڑے امکانات رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ نہایت ضروری ہے کہ ان امکانات سے مثبت اور ٹھوس طریقے سے استفادہ کیا جائے اور اقتصادی معاملات کو سیاسی یا دیگر نوعیت کے مسائل کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ ان کے بقول خطے کے عوام امن اور خوشحالی چاہتے ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب معاشی تعلقات کو اولین ترجیح دی جائے۔


چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ چین کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب صرف تجارتی میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں وسعت اختیار کر چکا ہے۔ وانگ یی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان استحکام کی جانب بڑھتا رہے گا اور خطے میں اقتصادی راہداریوں کے ذریعے مشترکہ ترقی کے امکانات زیادہ سے زیادہ پیدا ہوں گے۔


پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اجلاس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، چین اور پاکستان کے مابین وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات نہ صرف موجودہ تعلقات کے استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل کی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ تینوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون مزید گہرا ہوگا اور خطے کے عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں گے۔
اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تینوں ممالک کو علاقائی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باہمی رابطوں کو مزید فروغ دینا ہوگا۔

ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ ٹرانزٹ اور تجارت کے میدان میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکپ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ خطے کو پائیدار ترقی اور استحکام کی جانب بڑھایا جا سکے۔


یہ سہ فریقی اجلاس اس وقت منعقد ہوا ہے جب افغانستان اپنی معیشت کو دوبارہ استحکام دینے کی کوششوں میں مصروف ہے اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔ چین اور پاکستان دونوں ہی افغانستان کے بڑے ہمسایہ ممالک ہیں، جن کی شمولیت اس پورے عمل کو مزید اہمیت بخشتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر اس اجلاس میں کیے گئے وعدے عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو نہ صرف تینوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے اقتصادی اور سیاسی اعتبار سے ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے

دیکھیں: افغان وزیرِ خارجہ نے پاکستان پر افغانستان میں عدم استحکام پھیلانے کا الزام عائد کر دیا

متعلقہ مضامین

بھارت میں ٹرمپ کے بیانات پر شدید ردعمل کے بعد امریکی سفیر سرجیو گور بحران کم کرنے اور بھارت کو امریکہ کا قابل اعتماد اتحادی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پیوٹن کی مقبولیت بھارت میں مسلسل بڑھتی جا رہی ہے

January 14, 2026

گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔

January 14, 2026

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس لائن ٹانک کا دورہ کرتے ہوئے شہدائے پولیس کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس دہشت گردی کے خلاف بہادری سے لڑ رہی ہے

January 14, 2026

حکومتِ پاکستان نے اعلیٰ سطح پر سفارتی تبادلوں اور نئی تقرریوں کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کابل، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور کیوبا سمیت اہم دارالحکومتوں میں نئے سفیروں اور ہائی کمشنر کی تعیناتی کی گئی ہے

January 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.