آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے نشپا بلاک میں تیل اور گیس کی ایک بڑی دریافت کا اعلان کر دیا ہے، جسے پاکستان کے مقامی توانائی وسائل میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق باراگزئی X-1 ایکسپلورٹری ویل سے یومیہ 4,100 بیرل تیل اور 10.5 ملین کیوبک فٹ گیس پیدا ہو رہی ہے۔ ویل کو 5,170 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا، جہاں ڈیٹا فارمیشن میں 187 میٹر کی ہائیڈروکاربن پر مشتمل زون کی نشاندہی ہوئی۔ کیسڈ ہول ڈرل اسٹیم ٹیسٹ نے ویل کی تجارتی صلاحیت کی تصدیق کی ہے جس میں 32/64 انچ چوک اور ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 3,880 پاؤنڈ فی مربع انچ ریکارڈ کیا گیا۔
نشپا ایکسپلوریشن لائسنس میں 65 فیصد ورکنگ انٹرسٹ کے ساتھ آپریٹر ہے، جبکہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے پاس 30 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاس 5 فیصد حصہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نئی دریافت ملکی توانائی کے ذخائر کو مضبوط کرے گی اور مقامی توانائی کے وسائل کی ترقی سے ملک میں توانائی کی طلب اور رسد کا توازن بہتر ہوگا، نیز مہنگی درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔
اس سے قبل باراگزئی X-01 (Slant) ویل میں بھی تیل اور گیس کی دریافت ہو چکی ہے، جو علاقے میں کنگریالی فارمیشن سے پہلی ہائیڈروکاربن دریافت تھی۔ دسمبر 2025 میں اس ویل کی پیداوار یومیہ 2,280 بیرل تیل اور 5.6 ملین کیوبک فٹ گیس ریکارڈ کی گئی تھی۔
پاکستان میں ٹائٹ اور شیل گیس کی بڑی صلاحیت موجود ہے، تاہم بڑی تجارتی پیداوار ابھی تک ثابت نہیں ہوئی۔ OGDCL شیل پروگرام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہی ہے اور 2026-27 میں پانچ سے چھ ویلز کے منصوبے کے تحت ہر ویل سے یومیہ 3 سے 4 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ پیداوار متوقع ہے۔ حکام کے مطابق اگر یہ پروگرام کامیاب رہا تو ملک بھر میں سیکڑوں یا 1,000 سے زائد ویلز کھودے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کے توانائی کے شعبے کو نئے مواقع میسر آئیں گے۔
دیکھیں: پاکستان اور تاجکستان کے درمیان میٹ ایکسپورٹ میں نمایاں پیش رفت