مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے امریکی سفیر کے ساتھ اہم ملاقات کے بعد نئی دہلی کے اس رواں بیانیے کو اختیار کرنے سے واضح گریز کیا ہے جس میں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے خطے سے جڑے تنازعات کو وراثتی مسائل قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست تعلقات کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی سفیر سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بتایا کہ فریقین کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مخصوص سیاسی اور تاریخی حالات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے بعض دیرینہ اور وراثتی مسائل موجود ہیں جن کا وقت کے ساتھ حل نکالا جانا ضروری ہے۔
عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں یہ سفارتی رابطہ امریکی سفیر، واشنگٹن انتظامیہ اور نئی دہلی کے درمیان جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور امریکہ کے درمیان تعلقات و روابط کی اس ڈومین کو آنے والے دنوں میں مزید وسیع اور گہرا کیا جائے گا تاکہ خطے کے مسائل پر براہِ راست بات ممکن ہو سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمر عبداللہ کی جانب سے بھارت کے روایتی موقف کو نذرِ انداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی عالمی اور قانوناً تسلیم شدہ الگ حیثیت کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکا۔
تجزیہ کاروں اور مبصرین (بشمول فراز) نے امریکی سفیر کو زمینی حقائق اور تاریخی پس منظر سے ناواقف نوآموز سفارت کار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمر عبداللہ کو بھی اس دورے اور سفارتی نشست کے حوالے سے درست اور کامل بریفنگ فراہم نہیں کی گئی تھی۔
عمر عبداللہ کا امریکی حکام کے ساتھ براہِ راست روابط بڑھانے کا ارادہ نئی دہلی کی ان کوششوں کے منافی ہے جن کے تحت وہ مسئلہ کشمیر کو محض اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے وراثتی مسائل کا اعتراف اور امریکی مداخلت کا اشارہ خطے کی عالمی اہمیت کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں کرتا ہے۔