شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے خلاف جاری قانونی کاروائی پر مچایا جانے والا شور حقائق کے بجائے خالصتاً ذاتی مفادات کا عکاس ہے۔ دستاویزی حقائق کے مطابق اس متنازعہ منصوبے میں مفادات رکھنے والی بعض شخصیات قانونی عمل کو “سیاسی انتقام” کا رنگ دے رہی ہیں تاکہ پریشر ٹیکٹکس کے ذریعے اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھ سکیں۔
رینجرز کی تعیناتی؟
سی ڈی اے آپریشن کے دوران رینجرز کے استعمال سے متعلق پھیلائی گئی خبریں سراسر بددیانتی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رینجرز کسی قبضے کے لیے نہیں بلکہ ریڈ زون کی سکیورٹی کے لیے پہلے سے ہی 24/7 وہاں تعینات رہتی ہے۔ معمول کی سکیورٹی تعیناتی کو سنسنی خیز بنا کر پیش کرنا زرد صحافت کے سوا کچھ نہیں۔
سفارتی بحران اور حقائق
عمارت میں 48 سفارتکاروں کی رہائش کا دعویٰ بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا ہے؛ دستیاب معلومات کے مطابق وہاں صرف 9 سفارتکار مقیم تھے۔ اسی طرح کسی بھی یورپی ملک کی جانب سے وزارتِ خارجہ کو کوئی ڈیمارش نہیں دیا گیا، بلکہ ایک خالص قانونی معاملے کو جان بوجھ کر سفارتی بحران بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پرانی تصاویر اور پراپیگنڈا
سوشل میڈیا پر سعودی سرمایہ کاروں کے دورے کی وائرل کردہ تصویر برسوں پرانی ہے، جب بی این پی کے اس وقت کے مالک عبدالحفیظ پاشا سرمایہ کاروں کی تلاش میں تھے۔ اس تصویر میں بی این پی مالک اور گوہر اعجاز واضح نظر آتے ہیں۔ بعض آوازیں ذاتی فلیٹس کے تحفظ کے لیے حقائق کو مسخ کر رہی ہیں، جبکہ لاہور کے کسی ڈویلپر سے متعلق کہانیاں بھی محض افواہ سازی ہیں۔
معاہدے کی خلاف ورزی
یہ کیس کسی مڈل کلاس طبقے کے خلاف نہیں بلکہ قانون اور معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کا ہے۔ 108 کنال کے اس منصوبے میں ٹاورز، باغات اور کمرشل ایریاز شامل تھے، جسے ادھوری معلومات کے ذریعے غلط رنگ دیا گیا۔ تعمیرات 2007 تک مکمل ہونی تھیں، مگر بی این پی نے ٹائم لائن کی خلاف ورزی کی اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود 17 ارب روپے کی واجب الادا رقم جمع نہیں کروائی۔
نتیجہ اور ریاستی مؤقف
سی ڈی اے ایک خود مختار ادارہ ہے جو پرپیگنڈے کے بجائے قانون کے مطابق کارروائی کر رہا ہے۔ صورتحال واضح ہے کہ کسی بھی متنازعہ یا غیر قانونی پراپرٹی میں سرمایہ کاری کا انجام ہمیشہ قانونی کاروائی اور نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ ذاتی مفاد کو صحافت یا آزادیٔ اظہار کا نام دے کر اداروں پر دباؤ ڈالنا کسی صورت قبول نہیں۔