پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث دہشت گرد گروہ زیادہ تر افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں اور ان کے نشانے پر پاکستانی شہری اور سکیورٹی فورسز ہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان کی سلامتی کو براہِ راست خطرات لاحق ہیں، لہٰذا افغان حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے مقامی کمانڈروں اور عوام پر اثرانداز ہوں تاکہ وہ پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے پناہ گاہ یا افرادی قوت فراہم نہ کریں۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام غیر ریاستی عناصر کو مسترد کرتا ہے، کیونکہ ریاست ہی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جنگ یا امن کا فیصلہ کرے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ اسلام آباد خطے میں امن چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ سرحد پار دہشت گرد گروہوں کو کسی بھی قسم کی سہولت یا مدد نہ ملے۔
دیکھیں: بلوچستان نیشنل موومنٹ کی جنیواکانفرنس میں ریاست مخالف بیانیے کی گونج